کراچی ( اے بی این نیوز )بپر جوائے کراچی سے صرف 338 ،ٹھٹھہ سے 360 کلومیٹر دور رہ گیا، کراچی شہر کے مختلف علاقوں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ شروع، کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندر کے پانی کی سطح میں اضافہ، دو کشتیاں الٹ گئیں،پاک بحریہ نے کشتیوں سمیت 22 افراد کی زندگیاں بچا لیں، محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے مرکز کے گرد ہواؤں کی رفتار170 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ لہروں کی اونچائی 30 فٹ ہے،بپرجوئےکل کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان ساحل سے ٹکرانے کا امکان ،سمندر بپھرنے سے پانی اورماڑہ کے رہائشی علاقے میں داخل،بارش کا سلسلہ آج سے 16 جون تک کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، شہید بینظیر آباد اور سانگھڑ میں جاری رہےگا،سمندری طوفان کیٹی بندر سے کل ٹکرائے گا، موجودہ رفتار 150 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جو بڑھ کر 170 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے،چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کی پریس کانفرنس کہا ساحل یا زمینی علاقے میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہوائیں طوفانی جھکڑوں کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،،وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا بپر جوائے سے لینڈ فال نہیں ہو گا تاہم اثرات آئیں گے،طوفان سے تیز ہوائیں چلیں گی اور بارشیں ہوں گی، کراچی میں 75 ریلیف کیمپس قائم کئے ہیں،، لوگوں کی جان بچانا ہماری ذمہ داری ہے،، اتنی بڑی تعداد میں زبردستی پیچھے ہٹانا اورنقل مکانی ممکن نہیں،سمندری طوفان بپرجوائے کے پیشِ نظر پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری،ساحلی پٹی کے نزدیک 82 فیصد سے زائد آبادی کو حفاظتی مقامات پر منتقل کیا جا چکا،شہریوں کی منتقلی کا عمل آج رات تک مکمل کر لیا جائے گا،،پاک فوج نے ٹھٹھہ میں 9, سجاول اور بدین میں مزید 14، 14 ریلیف کیمپس قائم کر دیئے،کور کمانڈر کراچی کی ریسکیو عمل ہر حال میں آج رات مکمل کرنے کی ہدایت،اگلے 72 گھنٹوں تک رینجرز اور فوجی دستوں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ساحلی علاقوں میں حالات بگڑنے لگے ہیں، سجاول میں بارش، اورماڑہ میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ٹھٹھہ ،بدین اور دیگر اضلاع میں تیز ہواؤں کے جھکڑ، ایمر جنسی نافذ، شہر قائد میں بوندا باندی، کیٹی بندر کو خالی کرالیا گیا، گڈانی میں بھی لہریں انتہائی بلند، مزید موسلا دھار بارشوں کا خطرہ ہے۔طوفان بپر جوائے کے پیشِ نظر کیٹی بندر پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ، کھارو چھان کے کئی دیہات زیرِ آب آگئے، بدین کے ساحلی علاقوں میں پانی ماہی گیروں کی بستی کے قریب پہنچ گیا۔کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں پانی کی سطح کئی فٹ تک بلند ہوگئی جبکہ ٹھٹھہ ،سجاول اور بدین کے ساحلی علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں سے ہائی ٹرانسمیشن لائن کے پول گرگئے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔دوسری جانب طوفان کی آمد سے پہلے کیٹی بندر شہر کو خالی کرالیا گیا جبکہ بدین کے ساحلی علاقوں، سجاول سے بھی نقل مکانی شروع ہوگئی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سجاول میں آج صبح 10 سے دوپہر 12 بجے کے درمیان کا وقت خطرے سے بھرپور ہے، جاتی، کھارو چھان اور شاہ بندر کے علاقے خطرے کی زد میں ہیں۔محکمہ موسمیات کے اندازوں کے مطابق طوفان 15جون کی دوپہر یا شام کو سندھ میں کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان ٹکرائے گا، طوفان میں ہواؤں کی رفتار 100 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوسکتی ہے۔سمندری طوفان کراچی سے 338 اور ٹھٹھہ سے 370 کلومیٹر کی دور رہ گیا ہے جبکہ کیٹی بندر پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے۔سمندر بپھرنے سے پانی اورماڑہ کے رہائشی علاقے میں داخل،سمندری طوفان “بپر جوائے” کے اثرات سامنے آنے لگے، سمندر بپھرنے سے پانی رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا۔بحیرہ عرب میں موجود سمندری طوفان کے باعث مکران کی سمندری حدود میں طغیانی کے سبب اورماڑہ دیمی زر میں سمندر بپھر گیا، سمندر کا پانی کنارے والی سڑک کو پار کر کے دکانوں، کمپنیوں اور آبادی کے علاقوں میں داخل ہو گیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سائیکلون بپر جوائے کل کیٹی بند سے ٹکرانے کا امکان ہے۔پانی آبادی میں داخل ہونے سے لوگ شدید پریشان ہیں، سمندر میں شدید طغیانی کے سبب ماہی گیروں کی املاک کو شدید نقصانات کا اندیشہ ہے۔چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا، آج سے 17 جون کے دوران ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، عمرکورٹ میں 80 سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی۔محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چار دنوں میں کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، میرپور خاص میں 60 سے 80 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوائیں متوقع ہیں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے، طوفان کے اثرات پری مون سون موسم پر بھی ہوں گے۔سمندری طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی سے لوگوں کا انخلا رات بھر جاری رہا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیٹی بندر کی 13 ہزار آباد خطرے میں ہے جس میں 3000 کو رات بھر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ شہید فاضل راہو کی 4000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے جس میں سے 3000 کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔بدین کی 2500 آبادی خطرے میں ہے جس میں سے 540 ابھی تک محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں، شاہ بندر کی 5000 آبادی سمندری طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اس لئے 90 لوگوں کو رات منتقل کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کھارو چھان کی 1300 کی آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 6 لوگ رات بھر منتقل کئے گئے، جاتی کی 10 ہزار آبادی خطرے کی زد میں آنے کا خدشہ ہے اس لئے رات بھر 100 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی تک 40 ہزار 800 میں سے 6836 لوگ منتقل ہو چکے ہیں، باقی لوگوں کی منتقلی کا سلسلہ دن بھر جاری رہے گا، ٹھٹھہ، بدین اور سجاول اضلاع کے لوگوں کو بھی انتظامیہ منتقل کرتی رہے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ لوگ اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، لوگوں سے اپیل ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ اداروں کو مقامی زبان میں سمندری طوفان سے متعلق آگاہی مہم کی ہدایت کی گئی ہے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ عوام موسمیاتی حالات سے آگاہ رہیں اور ساحل پر جانے سے گریز کریں، ماہی گیر کھلے سمندر میں کشتی رانی سے بھی گریز کریں، ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل اور ان سے تعاون کریں۔کمشنر کراچی نے شہریوں کے ساحل سمندر پر جانے، ماہی گیری، کشتی رانی، تیراکی اور نہانے پر طوفان کے خاتمے تک کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر پابندی عائد کر رکھی ہے۔سندھ حکومت نے تمام ضلع افسران و ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور کراچی سمیت ساحلی اضلاع میں کنٹرول روم قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے علاوہ زیر تعمیر عمارتوں پر لگے میٹریل بھی ہٹانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔محکمہ صحت اور کے ایم سی ہسپتال ہائی الرٹ کر دیئے گئے ہیں جبکہ ڈی ایم سیز اور کنٹونمنٹ کو بل بورڈ ہٹانے کی ہدایات دی گئی ہیں، خطرناک عمارتوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف کیمپ قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں۔سندھ حکومت نے واٹر بورڈ ڈی واٹریننگ پمپ لگانے، ضلع انتظامیہ، رینجرز اور کوسٹ گارڈ کو دفعہ 144 پر عمل درآمد یقینی بنانے اور شیشے والی عمارتوں کے مالکان سے بات کر کے حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ کے الیکٹرک کے سی ای او کو بجلی کھمبوں سے جانوں کا تحفظ یقینی بنانے اور پمپنگ سٹیشنز کو بلا تعطل بجلی فراہمی یقینی بنانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ممکنہ سمندری طوفان “بپر جوائے” سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کے تازہ دم دستے تعینات کر دیئے گئے۔پاک آرمی کی کمانڈ نے فیصلہ کیا کہ پاک آرمی کے مزید دستے بھی ممکنہ ریسکیو آپریشنز کیلئے اپنے فرائض سرانجام دیں گے، پاک فوج عوام کو مشکل وقت میں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔وزیر اعظم کا وزیر اعلیٰ سندھ کو فون، طوفان بارے پیشگی انتظامات کو سراہاکراچی میں سمندری طوفان بپر جوائے کے پیشِ نظر کل سے سی ویو کا روڈ مقامی ریسٹورنٹ سے خیابانِ اتحاد تک بند کر دیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریفک کو خیابانِ مجاہد سے سروس روڈ کی جانب بھیجا جا رہا ہے، خیابانِ اتحاد سے آنے والا ٹریفک واپس اور خیابانِ صبا کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔ٹریفک پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سڑک طوفان کے پیشِ نظر بند کی گئی ہے، ساحل پر جانے پر پابندی اور دفعہ 144 نافذ ہے۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ طوفان کی صورت میں گھر کی بجلی اور گیس بند کر دیں۔پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھر پارکر، میر پور خاص اور عمر کوٹ میں طوفان کے باعث تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، تیز ہوائیں کمزور اور کچے مکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، ان اضلاع میں موسلا دھار بارش کا امکان بھی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ماہی گیر 17 جون تک کھلے سمندر میں جانے سے گریز کریں، نشیبی علاقوں خصوصاً ساحلی پٹی سے انخلاء کی تیاری کریں، عوام اپنی ضرورت کے الیکٹرونکس آلات کو چارج کر لیں، اپنی ضروری دستاویزات کو واٹر پروف تھیلوں میں محفوظ کر لیں۔پی ڈی ایم اے سندھ نے مزید کہا ہے کہ حکومتی حکام کی طرف سے ہدایت کی جائے تو محفوظ پناہ گاہ میں چلے جائیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ کمشنر مکران اور قلات طوفان سے نمٹنے کے اقدامات کی نگرانی کریں، ماہی گیر سمندر کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں ان سے صورتحال پر مشاورت کی جائے۔وزیراعلیٰ کو ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے متوقع صورتحال کے مطابق امدادی سرگرمیوں کی تیاری پر بریفنگ دی گئی، ڈی جی پی ڈی ایم اے اپنی ٹیم، مشنری اور امدادی سامان کے ساتھ گوادر میں موجود ہیں۔















