اہم خبریں

مزید معاشی تباہی رک چکی ،سالانہ 50 ہزار ڈالر بھیجنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو مراعات دینگے، اسحاق ڈار کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

اسلام آباد(اے بی این نیوز)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صرف بجٹ کی اہم چیزوں کے بارے میں بتاؤں گا ،ٹیکس بارے کاروباری افراد کی مشکلات کے حل کیلئے ایف بی آر میں دو کمیٹیاں آج ہی بنا دیں گے،ایک بزنس کمیٹی اور ایک ایناملی کمیٹی قائم کی جائے گی،آج میری ساتویں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس ہے،قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارشات پر ہر ممکن عملدرآمد کی کوشش کروں گا،ترقیاتی کاموں زیادہ ہوں گے تو ملک میں معیشت کا پہیہ چلے گا ،اگر ترقیاتی بجٹ کو شفاف اور درست طور پر عمل کر لیا تو شرح نمو کا ہدف حاصل کر لیں گے،آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ شرح نمو 4 فیصد ہو سکتی ہے ،قرضوں پر سود کی ادائیگی سب سے بڑا بوجھ ہے،گزشتہ چار سال میں قرض بھی دگنا ہو گیا اور شرح سود بھی21 فیصد بڑھ گئی،شرح نمو بہتر ہو گئی تو روزگار کے مواقعے پیدا ہوں گے،پاکستان ایٹمی قوت ہے اب معاشی قوت بھی بننا ہے ،جلد زراعت میں سرمایہ کاری کا فائدہ ہوتا ہے،معاشی استحکام ہو چکا،ہم نے شرح نمو بڑھانے کی طرف بڑھنا ہے،آئی ٹی کے شعبے کو مراعات دی ہیں،آئی ٹی سیکٹر کیلئے خصوصی اکنامک زونز جلد مکمل کریں گے،زراعت میں پڑوسی ممالک کی پیداوار ہمارے سے دگنا ہے،زراعت کیلئے قرض بڑھا دیئے،مشرقی پنجاب میں زرعی پیداوار ہمارے سے دگنا ہے،چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو سستے قرض فراہم کریں گے،ایس ایم ایز کیلئے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی شروع کریں گے ،ترسیلات زر بڑھانے کیلئے نئے اقدامات کریں گے،بیرون ممالک مقیم پاکستانی جو 50 ہزار ڈالر سالانہ سے زیادہ ترسیلات زر کریں گے انکے لیے خصوصی مراعات دیں گے ۔سالانہ 50 ہزار ڈالر بھیجنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو مراعات دی جائیں گی،50 ہزار ڈالر کی ترسیلات بھیجنے والوں کیلئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجراء کیا جائے گا،اگلے مالی سال لیپ ٹاپس کیلئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں،اگلے مالی سال بی آئی ایس پی کیلئے 450 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔،سرکاری ملازمین کیلئے ایڈہاک ریلیف کا اعلان کیا ہے،ایک سے 16 گریڈ کیلئے 35 فیصد اور 17 سے 22 گریڈ 30 فیصد ایڈہاک ریلیف ہوگا،پوسٹ بجٹ کا مقصد کوئی ابہام ہوتو اس کو دور کیا جائےچیئرمین آج منظوری لے لیں گے،کمیٹیاں بن جائیں گی،بجٹ پیش کرنے کے بعد ایف بی آر میں دو کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں جن سفارشات پر عمل ہوسکے گا ہم اس پر عملدرآمد کرینگے،بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل کاروباری طبقے کے تحفظات دور کریں گے۔حکومت کے کل اخراجات 14ہزار 400ار ب روپے ہیں،ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف9200ارب روپے ہےضم اضلاع کیلئے کل 61بلین روپے رکھے گئے ہیں،اگلے سال کا خام ریونیو بارہ ہزار163ارب روپے ہوگا،پنشن کی مد میں 761ارب رکھے گئے ہیں،وفاقی خسارہ پانچ ہزار773ارب روپے ہوا ہے،پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے ترقی کا پہیہ چلے گا،ضم اضلاع کیلئے کل 61بلین روپے رکھے گئے ہیں،ڈیویلپمنٹ بجٹ کا استعمال صحیح ہوگا تو 3.5فیصد ترقی کا ہدف حاصل کرسکتے ہیں،اگلے سال مہنگائی کی شرح21فیصد رہے گی،صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559ارب روپے مختص کیاگیا ہے،معاشی گروتھ ہوگی تو مہنگائی اور بیروزگاری کم ہوگی۔ہم مستحکم ہوگئے ہیں مزید معاشی تباہی رک گئی ہے۔1150ارب کے ترقیاتی بجٹ کی نئی بلند تاریخ رقم کی جارہی ہے،معیشت کا مجموعی حجم105ٹریلین روپے ہے،پنشن کیلئے بجٹ میں761ارب روپے رکھے گئے ہیں،اگلے سال ایک لاکھ لیپ ٹاپ اسکیم کیلئے دس ارب رکھے گئے ہیں،بی آئی ایس پی کیلئے 450ارب روپے رکھے گئے ہیں،آٹا،گھی،چاول اور دالوں پر ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی،یوٹیلٹی سٹورز کیلئے35ارب روپے رکھے گئے ہیں،یوٹیلٹی سٹورز کیلئے35ارب روپے رکھے گئے ہیں،اسکور کارڈ32سے بڑھا کر چالیس کردیاگیا ہے،سالانہ 50 ہزار ڈالر بھیجنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو مراعات دی جائیں گی،50 ہزار ڈالر کی ترسیلات بھیجنے والوں کیلئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجراء کیا جائے گا،اگلے مالی سال لیپ ٹاپس کیلئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں،پیکٹ کے دودھ پر کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا، چھوٹے،درمیانے درجے کی صنعتوں کو سستے قرض فراہم کریں گے،،سولرسستا کرنے کے اقدامات کئے ہیں،آٹاگھی دالوں پر سبسڈی کی سہولت یوٹیلٹی سٹورز پر ہوگی

متعلقہ خبریں