اسلام آباد(اے بی این نیوز)مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مظاہروں میں تشدد نہیں ہوا،ان لوگوں نے ہمارے ریاستی اداروں پر حملہ کیا ،اگر ہمارے اداروں پر حملہ کریں گے تو آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا،ہم جوڈیشری کے بھی خیر خواہ ہیں،ہم الیکشن کے لوگ ہیں،ہم2018کے الیکشن کو قبول نہیں کرتے،جو ملک کیلئے مفید ہوگا وہ ہی فیصلے کریںگے،انتخابی ایڈجسٹمنٹ ہمارے لئے آسان ہوگی،مہنگائی کی وجہ سے ہم پریشان ہیں،نئی حکومت بھی مہنگائی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر نہیں اٹھا سکے گی،عدلیہ نے جانبداری کا مظاہرہ کیا تو عوامی عدالت میں گئے عدلیہ پر تشویش کااظہار کیا،ہم عدلیہ کے خیر خواہ ہیں اگر اس ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے تو اس پر بات ہوتی ہے، ہم عدلیہ کے خیر خواہ ہیں اگر اس ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے تو اس پر بات ہوتی ہے،سوال یہ ہے ریاستی اداروں پر حملہ کیا گیا جب جی ایچ کیو یا کور کمانڈر پر حملہ ہوگا تو پھر آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا،نئی صورتحال کا سامنا ہے جسے ماضی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ،کورٹ کے سامنے گملوں اور کیاریوں کی بھی حفاظت کرتےرہے،اختلاف رائے کے باوجود اتفاق رائے پر پہنچیں گے الیکشن مل کر کریں گے الیکشن کے لوگ ہیں،کسی معاملے پر دو ہزار اٹھارہ کو معیار نہیں سمجھتے ،ملکی صورتحال کو نئے ہنگاموں یا نئی پریکٹس کی بھینٹ چڑھا دی یا معاملات کو بہتر کریں،پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے علاقائی سطح پر ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں،مہنگائی پر پریشانی یہی ہے ملکی معیشت اس حد تک گر چکی ہے نئی حکومت اسے اٹھا نہیں سکے گی،فورا الیکشن کی طرف جانا چاہیے انشااللہ عوام سمجھ رہی ملک کو دلدل کی طرف کس نے دھکیلا ہے کتنی دقت ہے،امید پیدا ہوگئی ہے معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے،















