گووا( نیوز ڈیسک) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کے غیر قانونی اقدامات شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔سفارتی پوائنٹ سکورینگ کیلئے دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ تمام ممالک ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ پرامن افغانستان خطے کے امن کیلئے اہم ہے معیشتوں کے رابطوں میں کمی افسوسناک ہے ۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ معیشتوں میں رابطے کی کمی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔معیشتوں میںکمی علاقائی تجارت اور معیشت کیلئےخطرہ ہے۔ علاقائی رابطوں کو بڑھانے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کا کردار اہم ہے ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا خطے میں غربت کے خاتمے کیلئے کردار اہم ہے ۔ اقتصادی راہداری معیشتوں کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے ۔ خطے کی ترقی کیلئے علاقائی اور اقتصادی روابط کا ہونا ناگزیر ہوچکا،، وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی اعزاز کی بات ہے۔ پاکستان دہشتگردی خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔سی پیک سینٹرل ایشیائی ریاستوں کی راہداری تجارت کیلئے بہترین مواقع فراہم کرے گا، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میںوزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ آئیے سفارتی پوائنٹ سکورنگ کیلئے دہشتگردی کو بطورہتھیار استعمال سے گریز کریں۔ اپنے خطے کی عوام کی اجتماعی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری جسے ہر ممکن تکمیل تک پہچاناہے ، عالمی طاقتیں امن کیلئے کردارادا کرتی آرہی ہیں وہاں لاقانونیت کے خاتمے کیلئے بھی اقدامات اٹھانا ہونگے۔وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ایس سی او مقاصد کیخلاف ہے، تمام شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک دیرینہ، تاریخی، ثقافتی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہیں، سمرقند اعلامیے نے خطے میں موثر راہداریوں اور قابل اعتماد سپلائی چینزکا مطالبہ کیا تھا، مشترکہ اقتصادی وژن آگے بڑھانےکیلئے اجتماعی رابطے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر کو موسمیاتی تبدیلی کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کیلئے موثراقدامات اٹھانا ہونگے۔















