اہم خبریں

بجلی کے بلوں میں اضافی یونٹس کا انکشاف، صارفین کیلئے اہم ہدایت

لاہور میں بجلی کے صارفین سے متعلق بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں اے ایم آئی اسمارٹ میٹرز کی ریڈنگ اور بلوں میں درج یونٹس کے درمیان مبینہ فرق کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض صارفین کے بلوں میں اضافی یونٹس شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس سے بجلی کے بھاری بلوں کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

اسمارٹ میٹرز کی ریڈنگ میں فرق کی اطلاعات

رپورٹس کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے بعض اے ایم آئی اسمارٹ میٹرز کے کمیونیکیشن سسٹم کو مبینہ طور پر بلاک یا میوٹ کیا گیا۔ اس کے بعد بلنگ میں ایسی ایڈجسٹمنٹ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں جن کے نتیجے میں بل پر درج میٹر ریڈنگ اور ساتھ موجود میٹر کی تصویر میں فرق دیکھا گیا۔

ان اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس طریقے سے اضافی یونٹس صارفین کے بلوں میں شامل ہوئے۔ تاہم، ہر متاثرہ میٹر اور بل کی الگ جانچ ضروری ہے تاکہ کسی مخصوص صارف کے معاملے کی حقیقت واضح ہوسکے۔

لائن لاسز کا ہدف بھی زیر بحث

اس معاملے کی وجہ لیسکو کے لائن لاسز کے اہداف کو پورا کرنے کی کوشش بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، غیر معمولی بلوں سے متاثرہ صارفین کو مالی مشکلات کا سامنا ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا، جہاں اسپیکر نے لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد رمضان بٹ کو طلب کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں صارفین کی جانب سے اوور بلنگ سے متعلق شکایات پر بھی توجہ دلائی گئی۔

اوور بلنگ سے متعلق سابقہ کارروائیاں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر اوور بلنگ کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ اس دوران لیسکو کے لائن لاسز کا تناسب تقریباً 15 فیصد تک پہنچنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارروائیاں ختم ہونے کے بعد دوبارہ شکایات سامنے آنے لگیں۔

صارفین اپنے بجلی کے بل کیسے چیک کریں؟

صارفین کو چاہیے کہ وہ بل پر درج یونٹس اور میٹر کی موجودہ ریڈنگ کا موازنہ کریں۔ اگر بل کے ساتھ میٹر کی تصویر موجود ہو تو اس پر درج ریڈنگ بھی دیکھیں۔ کسی واضح فرق یا غیر معمولی بل کی صورت میں لیسکو کے متعلقہ دفتر یا سرکاری شکایتی نظام سے رابطہ کرکے بل کی جانچ اور درستگی کی درخواست دیں۔

یاد رہے کہ اوور بلنگ سے متعلق الزامات کی حتمی تصدیق کیلئے متعلقہ ادارے کی تحقیقات اور ریکارڈ کی جانچ اہم ہے۔

متعلقہ خبریں