پاکستان کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے ان پر ہونے والی تنقید پر سوال اٹھا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کی تقریباً ایک دہائی پر محیط شاندار کارکردگی اور پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو ان کی موجودہ خراب فارم کی وجہ سے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان نے انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے ٹرائی نیشن سیریز اپنے نام کرلی، تاہم بابر اعظم کی بیٹنگ فارم پر بحث جاری ہے۔ سری لنکا کے خلاف فائنل میں وہ صرف 5 گیندوں کا سامنا کرکے بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے تھے۔ اس کے باوجود فخر زمان کی 127 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت پاکستان نے 3 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عماد وسیم نے بابر اعظم کو سپر اسٹار اور پاکستان کے بہترین ون ڈے بیٹرز میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق مسلسل کئی برسوں تک عالمی معیار کی بیٹنگ، مستقل مزاجی اور کامیابیوں کو ایک خراب دور کی بنیاد پر فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ بابر کی فارم پر سوال اٹھانا، ان کی تکنیک کا جائزہ لینا اور کارکردگی پر تنقیدی گفتگو کرنا کرکٹ کا حصہ ہے، کیونکہ کوئی بھی کھلاڑی تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا۔ تاہم ان کے بقول ذاتی مقاصد، حسد اور کردار کشی کو کرکٹ تجزیے کا نام دینا درست نہیں۔
عماد وسیم نے مزید کہا کہ اگر کسی کو بابر اعظم کی بیٹنگ میں کمزوریاں نظر آتی ہیں تو انہیں واضح انداز میں بیان کرنا چاہیے اور بہتری کے لیے تعمیری تجاویز دینی چاہئیں۔ محض عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی کھلاڑی کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ کو اپنے بڑے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ مشکل وقت میں ان کی سابقہ کامیابیوں کو بھلا کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔















