اسلام آباد (اے بی این نیوز) نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو شناختی دستاویزات کے حصول کے لیے بڑی سہولت فراہم کردی ہے، جس کے تحت شہری پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے مختلف خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اگر کوئی شہری زندگی میں ایک مرتبہ نادرا دفتر جا چکا ہے اور اس کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات نادرا کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں تو وہ اس کے بعد پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے شناختی دستاویزات کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

تاہم اس سہولت کے حوالے سے بعض اہم شرائط بھی موجود ہیں۔ اگر کسی بچے کا ب فارم پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بنوایا گیا ہو تو 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر پہلا قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا دفتر جانا ضروری ہوگا۔
اسی طرح جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست گزار کو درخواست جمع کروانے کی غرض سے نادرا دفتر آنا ہوگا، جبکہ قانونی ورثاء میں شامل دیگر افراد پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کروا سکتے ہیں۔
اس سہولت کا مقصد شہریوں کو نادرا دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے بچانا اور شناختی دستاویزات کے حصول کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
مزیدپڑھیں: سرکاری گھروں پر قبضہ یا کرایوں کی عدم ادائیگی؟ 8 ہزار وفاقی ملازمین نادہندہ قرار















