اسلام آباد(اے بی این نیوز)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام کے سامنے ملک میں جاری فیول سبسڈی اسکیم کو زیادہ اخراجات اور اس کا دائرہ وسیع ہونے کے باعث اسے بلا تاخیر ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا تھا کہ پیٹرول سبسڈی اسکیم 10 ماہ بھی چلانا پڑی تو عوام کے لیے جاری رکھیں گے۔ وزیر اعظم شہبازشریف کی جانب سے بھی متعدد مواقع پر مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہ چھوڑنے کے اعلانات سامنے آچکے ہیں ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ خصوصی ریلیف اسکیم متعارف کرائی تھی جس کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔
تاہم اب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں توقعات سے زیادہ بڑھتی ہیں تو مستقبل میں کسی بھی فیول سبسڈی اسکیم کو محدود مدت کے لیے رکھا جائے، اس کا دائرہ مخصوص افراد تک محدود ہو اور امداد کی فراہمی کے لیے پہلے سے موجود سماجی معاونتی پروگراموں کو استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ، ایسی معاونت کو مالی سال 2027-2026 کے بجٹ میں مختص مالی حدود کے اندر ہی رکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے قرض پروگراموں کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ کرلیا ہے، جس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو تقریباً ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی نئی قسط جاری ہو سکے گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے فیول سبسڈی کو جلد مرحلہ وار ختم کرنے کا مطالبہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
موجودہ اسکیم کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے کم اور متوسط آمدن والے شہریوں سے کم کرنا ہے۔
مزیدپڑھیں: سولر پینلز کی قیمتوں میں استحکام، 8 اکتوبر کے تازہ ریٹس جاری















