پشاور،لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے تیاریاں جاری ہیں تاہم پنجاب میں احتجاج کی قیادت کون کرے گا یہ سوال کارکنوں کے لیے سب سے بڑی الجھن بن گیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق کارکن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے تیار ہیں مگر اس بات کا واضح جواب سامنے نہیں آ رہا کہ پنجاب سے اس قافلے کی قیادت کون کرے گا۔
تحریک انصاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی کال پر کارکن لبیک کہتے ہیں تاہم رہنما اور ارکان اسمبلی گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔ کارکنوں کے مطابق پولیس کے چھاپوں کا سلسلہ گھروں تک پہنچ چکا ہے جس کے بعد متعدد ارکان پنجاب اسمبلی اپنے حلقے اور رہائش گاہیں چھوڑ کر کہیں چھپ گئے ہیں۔
اسی سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تینوں بہنوں کو بھی تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پارٹی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی لانگ مارچ سے پہلے قیادت کو میدان سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی بھی ان دنوں دستیاب نہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ رابطے میں نہیں آ رہے اور ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر صوبے کی سطح پر کوئی بڑا رہنما قافلے کے آگے کھڑا نہیں ہوتا تو پنجاب سے لانگ مارچ کیسے نکلے گا؟
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟















