اہم خبریں

وزیراعظم کا بڑا اقدام، پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دینے کا اعلان

پٹرول ریلیف: عوامی سہولت کیلئے نیا نظام متعارف

اسلام آباد(موسیٰ رضا شمسی) ایسے مشکل معاشی حالات میں، جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال کے اثرات پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، حکومت کی جانب سے عوام کو پیٹرول ریلیف فراہم کرنے کا اقدام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خصوصی پیٹرول ریلیف سکیم کا اجرا ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مہنگے پیٹرول کا بوجھ عام شہری، محنت کش طبقے اور محدود آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے۔عصر حاضر جہاں پوری دنیا ایک گلوبل ویلج کی مانند ہے ایسے میں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات دنیا کے دوسرے خطوں تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے۔

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے معاشی مشکلات میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ، کاروبار اور بالآخر عام گھرانے کے ماہانہ بجٹ تک پہنچتے ہیں۔
نتیجتاً سب سے زیادہ دباؤ اس طبقے پر پڑتا ہے جس کی آمدن محدود اور اخراجات پہلے ہی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔

مزدور، ڈیلیوری رائیڈر، رکشہ ڈرائیور، چنگ چی چلانے والا، کم تنخواہ دار ملازم اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑی محض سواری نہیں بلکہ روزگار کا ذریعہ ہے۔ ان کے لیے پٹرول مہنگا ہونے کا مطلب کام پر پہنچنے کی لاگت میں اضافہ، کاروباری آمدن میں کمی اور گھر کے بجٹ پر مزید بوجھ ہے۔عام آدمی کو مہنگے پٹرول کے اثرات سے کسی قدر بچانے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف حکومت نے وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم متعارف کرائی ہے۔

اس سکیم کا بنیادی مقصد محدود مالی وسائل اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان ایک ایسا ہدفی طریقہ کار اختیار کرنا ہے جس کے ذریعے پٹرول کی قیمتوں کے اضافی بوجھ سے براہِ راست متاثر ہونے والے کم اور متوسط آمدن کے شہریوں کو ریلیف دیا جاسکے۔

اس سکیم کی اہمیت صرف 500 روپے کی رعایت یا چند لیٹر پٹرول تک محدود نہیں۔ اس کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ حکومت نے پہلی مرتبہ کم اور متوسط آمدن والے ایسے شہریوں کا باقاعدہ ڈیجیٹل ریکارڈ تشکیل دینے کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے جو اپنی روزمرہ معاشی سرگرمیوں کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اگر اس نظام کو شفافیت، ذاتی معلومات کے تحفظ اور درست ڈیٹا کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے تو مستقبل میں کسی بھی معاشی بحران کے دوران متاثرہ طبقات کی شناخت اور ان تک براہِ راست امداد پہنچانے میں یہ نظام مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت یہ ہے کہ حکومت نے عوامی فیڈبیک کو نظام میں تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ ابتدا میں موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لیے پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط رکھی گئی تھی، لیکن ملک بھر سے آنے والی آراء کے بعد اس شرط کو ختم کردیا گیا۔ اب پانچ لیٹر سے کم پٹرول خریدنے والے اہل محنت کش بھی ریلیف حاصل کرسکیں گے اور ہفتہ وار ٹوکن پر 500 روپے کی رعایت دی جائے گی۔

یہ تبدیلی بظاہر ایک انتظامی ترمیم ہے، مگر کم آمدن والے خاندان کے لیے اس کی عملی اہمیت زیادہ ہوسکتی ہے۔ محدود آمدن رکھنے والا ہر شخص ایک وقت میں پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ چنانچہ کم مقدار میں پٹرول خریدنے والوں کو بھی سکیم میں شامل کرنا ریلیف کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش ہے۔

اسی طرح عوامی مطالبات اور فیڈبیک کی بنیاد پر 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو بھی سکیم میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ سواری بھی اہل قرار دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے ان محنت کش خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے جو نئی گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنے کے بجائے برسوں پرانی سواری ہی سے اپنے روزگار کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔

800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی ماہانہ 30 لیٹر پٹرول پر رعایت کا طریقہ کار رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر دس روز بعد 10 لیٹر کا ایک ٹوکن، یعنی ماہانہ تین ٹوکن جاری کیے جائیں گے۔ یوں مختلف قسم کی سواریوں اور ان کے استعمال سے وابستہ شہریوں کو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس سکیم کا ایک اور اہم پہلو ڈیجیٹل شفافیت ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی سربراہی میں وزارتِ آئی ٹی نے ایس ایم ایس رجسٹریشن، ڈیجیٹل ٹوکن کے اجرا اور پٹرول پمپ پر فوری تصدیق کا نظام تیار کیا ہے۔ شناختی کارڈ، رجسٹرڈ موبائل سم، گاڑی کی معلومات اور منفرد ٹوکن کو باہم مربوط کرنے کا مقصد دہری رجسٹریشن، جعلی دعووں اور ممکنہ غلط استعمال کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔

حکومت کے مطابق 9771 پر رجسٹریشن کا ایس ایم ایس بھی مکمل طور پر مفت کردیا گیا ہے۔ شہری REG کے ساتھ شناختی کارڈ نمبر، بغیر اسپیس گاڑی کا نمبر، صوبے کا پہلا انگریزی حرف اور رجسٹریشن کی تاریخ بھیج کر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ تصدیقی پیغام موصول ہونے کے بعد TOK لکھ کر پٹرول کا ٹوکن حاصل کرنے کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ رجسٹریشن کو مفت کرنے کا فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ امداد حاصل کرنے کے عمل میں داخل ہونے کے لیے بھی شہری کو کوئی اضافی رقم ادا نہ کرنا پڑے۔

وزارتِ آئی ٹی کا چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم بھی اس نظام کی نگرانی کررہا ہے۔ ایس ایم ایس، ٹوکن، تصدیق اور شکایات کے عمل کی مسلسل نگرانی اس بات کے لیے ضروری ہے کہ کسی شہری کو تکنیکی خرابی یا انتظامی پیچیدگی کی وجہ سے ریلیف سے محروم نہ ہونا پڑے۔

سکیم کی آگاہی کے لیے ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے مہم شروع کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی قیادت میں عوام کو رجسٹریشن، اہلیت، ٹوکن اور رعایتی پٹرول کے حصول کا طریقہ آسان زبان میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق یوتھ ٹیموں اور کارکنوں کو پٹرول پمپوں پر بھیجا گیا تاکہ وہ عملی طور پر نظام کا جائزہ لیں، شہریوں اور پمپ مالکان سے رائے حاصل کریں اور سامنے آنے والے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔

سکیم کا نفاذ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، پی ٹی اے، اسٹیٹ بینک، نادرا، این آئی ٹی بی، ضلعی انتظامیہ اور ٹیلی کام آپریٹرز سمیت متعدد اداروں کے درمیان رابطہ اس نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ریلیف پروگرام کی کامیابی کے لیے اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ناگزیر ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے سکیم کے مختلف مراحل کی نگرانی اور عوامی فیڈبیک کی بنیاد پر فوری تبدیلیوں کی ہدایات اس حکومتی طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہیں جس میں پالیسی کو زمینی تجربات کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی بھی فلاحی پروگرام کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ اعلان اور عملی فائدے کے درمیان فاصلہ کم سے کم ہو۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک بڑی آبادی محدود آمدن میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کرتی ہے، پٹرول کی قیمت میں اچانک اضافہ معاشی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایسے میں ہدفی ریلیف کا نظام اس طبقے کے لیے اہم ہوسکتا ہے جو نہ مکمل طور پر خوشحال طبقے میں شامل ہے اور نہ روایتی امدادی پروگراموں کا مستقل مستحق سمجھا جاتا ہے۔

وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم اسی درمیانی طبقے تک رسائی کی ایک کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔ موجودہ پٹرول بحران میں فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے ایک ایسا ڈیجیٹل فلاحی ڈھانچہ بھی تشکیل پاسکتا ہے جس کے ذریعے مشکل معاشی حالات میں امداد زیادہ تیزی، شفافیت اور ہدفی انداز میں ان شہریوں تک پہنچائی جاسکے جو واقعی اس کے محتاج ہوں۔

موجودہ مشکل معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ عالمی بحرانوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے عام شہری کو پالیسی سازی کے مرکز میں رکھا جائے۔ پٹرول ریلیف سکیم اسی ضرورت کے جواب میں حکومت کی جانب سے اختیار کیا گیا ایک ہدفی اقدام ہے، جس کی کامیابی کا فیصلہ بالآخر اس بات سے ہوگا کہ اس کا فائدہ کتنے مستحق شہریوں تک، کتنی آسانی سے اور کتنی شفافیت کے ساتھ پہنچتا ہے۔ان مشکل حالات کے باوجود حکومت کی جانب سے عوام کو پیٹرول ریلیف ایک انتہائی مستحسن قدم ہے۔
مزید پڑھیں:صدر زرداری سے گورنر پنجاب کی ملاقات، صوبے کے انتظامی امور پر اہم گفتگو

متعلقہ خبریں