مسقط (ویب ڈیسک) آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے معاملے پر ایران، عمان، عراق اور خلیجی ممالک کا اہم علاقائی اجلاس پیر کو مسقط میں ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستوں کے انتظام اور انہیں محفوظ بنانے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جن میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے عارضی بحری راستے قائم کرنے پر اتفاق بھی شامل ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا فریم ورک تجارتی بحری آمدورفت کو مرحلہ وار منظم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
ایران اور عمان کا عارضی بحری راستہ
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی مشترکہ بحری راستہ قائم کرنے پر پہلے ہی بات چیت ہوچکی ہے۔ اگست میں دونوں ممالک نے مجوزہ انتظام کے ساتھ آبنائے میں ممکنہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مشترکہ منصوبے پر بھی گفتگو کی تھی۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت بحری جہازوں کو ایرانی پانیوں سے داخل ہوکر عمانی جانب سے آبنائے سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ خلیجی ممالک اس انتظام کی حمایت کے ساتھ یہ ضمانت چاہتے ہیں کہ یہ طریقہ کار عارضی ہوگا اور تجارتی جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت برقرار رہے گی۔
خلیجی ممالک کی شرکت کیوں اہم؟
اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی شرکت انتہائی اہم سمجھی جارہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت کا براہ راست تعلق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کی معیشتوں اور توانائی کی برآمدات سے ہے۔
عراق کو بھی مذاکرات میں شامل کیا گیا ہے۔ علاقائی ممالک کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایسا طریقہ کار تشکیل دیا جائے جس پر ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کم از کم عارضی اتفاق رائے پیدا ہوسکے۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کم
رپورٹ کے مطابق 10 ستمبر کو صرف 7 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ مارچ میں جنگ اور آبی گزرگاہ کی بندش سے قبل روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔
بارودی سرنگیں اور سیکیورٹی بڑا مسئلہ
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے میں سیکیورٹی اور ممکنہ بارودی سرنگوں کا خطرہ بڑی رکاوٹ قرار دیا جارہا ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان اگست میں عارضی بحری راستے کے ساتھ بارودی سرنگوں کی صفائی کے مشترکہ منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔
امریکا بھی آبنائے میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے کارروائی کرچکا ہے، تاہم بحری جہاز چلانے والی کمپنیوں میں میزائل، ڈرون اور بارودی سرنگوں کے خطرات کے باعث اب بھی تشویش پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بیمہ اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
باب المندب کی کشیدگی نے صورتحال مزید پیچیدہ کردی
علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والی ایک اور وجہ بحیرہ احمر کے جنوبی راستے باب المندب میں بڑھتی کشیدگی ہے۔ یمن کے قریب تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرے میون اور قریبی ساحلی علاقے سے متعلق پیش رفت نے ایک اور اہم عالمی بحری گزرگاہ کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ایسے میں مسقط میں ہونے والا اجلاس صرف آبنائے ہرمز میں عارضی بحری آمدورفت کی بحالی تک محدود نہیں بلکہ خلیج، بحیرہ احمر اور عالمی توانائی کی ترسیل کے وسیع تر بحران کے تناظر میں بھی اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:مشہور پنجابی گلوکار ایمی ورک بال بال بچ گئے، شائقین کے لیے بڑی خبر















