پشاور (5 ستمبر 2026): پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات سامنے آنے لگے، پشاور میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق پشاور سے راولپنڈی، لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے لیے سفر کرنے والے مسافروں کو اب پہلے سے زیادہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ مختلف روٹس پر کرایوں میں 100 روپے سے لے کر 2500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اے سی اور نان اے سی گاڑیوں کے کرائے بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
صوبے کے مختلف اضلاع کے لیے چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق مختلف روٹس پر کرایہ 100 سے 500 روپے تک بڑھا ہے، جس کا براہ راست اثر روزانہ سفر کرنے والے مسافروں پر پڑے گا۔
اندرون شہر سفر بھی مہنگا
پشاور شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی 5 سے 20 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ شہریوں کے مطابق پہلے ہی مہنگائی کے باعث گھریلو بجٹ متاثر ہے، ایسے میں سفری اخراجات بڑھنے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ گئے
صرف مسافر ٹرانسپورٹ ہی نہیں بلکہ سامان کی ترسیل بھی مہنگی کردی گئی ہے۔ مختلف شہروں کے لیے کارگو بکنگ کے علاوہ ٹرالر، ٹرک اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے۔
کارگو کرایوں میں اضافے کا اثر اشیائے ضروریہ سمیت مختلف سامان کی ترسیل کی لاگت پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتوں پر بھی مزید دباؤ آسکتا ہے۔
یوں پشاور ٹرانسپورٹ کرایے بڑھنے سے شہریوں کے ساتھ کاروباری طبقے کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید تبدیلی کی صورت میں کرایوں پر دوبارہ نظرثانی کا امکان بھی موجود ہے۔















