اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے دی جانے والی ایندھن سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں اور عوامی و مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے سبسڈی پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آچکی ہے اور اس کا فائدہ پہلے ہی صارفین تک منتقل کیا جا چکا ہے۔
اس بنیاد پر کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے سبسڈی اسکیم ختم کرنے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کمیٹی کی کارکردگی اور بین الصوبائی رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پروگرام کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کو ڈیٹا اور ترسیلی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور مستقبل میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ یہ سبسڈی پروگرام رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں۔اسلام آباد کی اہم سڑکیں بند ، شہری کون سے راستے استعمال کریں ؟















