اسلام آباد (رضوان عباسی ) امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی زیر غور تجویز کے تناظر میں پاکستان کی حالیہ تجارتی پالیسی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام ایسے ممالک کے خلاف اضافی محصولات عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں جو جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد نہیں کرتے یا اس حوالے سے مؤثر عملدرآمد یقینی نہیں بناتے۔اس پس منظر میں پاکستان نے 28 اپریل 2026 کو جبری مشقت کے ذریعے تیار یا پیدا کی گئی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
وزارتِ تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق مکمل یا جزوی طور پر جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی پاکستان میں درآمد ممنوع قرار دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے تحت وفاقی حکومت عالمی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے معیار اور رہنما اصولوں کے مطابق متعلقہ اشیاء، اداروں اور ممالک کی نشاندہی کرے گی۔

اس کے علاوہ نامزد ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء کے لیے دستاویزی شواہد یا سرٹیفکیشن کی فراہمی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ درآمد شدہ مصنوعات جبری مشقت کے ذریعے تیار نہیں کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد پر پابندی اور نئے ضوابط کا نفاذ بین الاقوامی تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک اہم اقدام ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ واقعی ایسے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرتا ہے جو جبری مشقت کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کرتے، تو پاکستان کی حالیہ پالیسی اسے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم حتمی صورتحال کا انحصار امریکی پالیسی کے خدوخال، اس کے اطلاق کے طریقہ کار اور مختلف ممالک کے بارے میں واشنگٹن کے جائزے پر ہوگا۔
مزید پڑھیں:اینٹی بائیوٹک دوائی ’’ایزومیکس‘‘کا بیچ جعلی پایا گیا















