اہم خبریں

سابق اراکین پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز، وزارت داخلہ اور سینیٹ آمنے سامنے

اسلام آباد(رضوان عباسی )سابق اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز پر وفاقی وزارت داخلہ اور سینیٹ کے درمیان اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ سابق اراکین پارلیمنٹ اور ان کی فیملی کو بلیو پاسپورٹ فراہم کرنے کے حق میں نہیں، تاہم اس معاملے پر غور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا گیا ہے۔

اجلاس میں بلیو پاسپورٹ کے اجرا سے متعلق ایک نکاتی ایجنڈا زیر غور آئے گا، جبکہ سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی بل پر بھی غور کیا جائے گا۔ مجوزہ بل کے تحت اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے سابق اراکین پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ کا حقدار قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

ترمیمی بل کے مطابق سابق اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ ان کے شریک حیات اور بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ فراہم کیا جا سکے گا۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، جبکہ اراکین پارلیمنٹ کو یہ سہولت میسر نہیں، اس لیے ریاست کے اعلیٰ ترین مناصب پر خدمات انجام دینے والوں کے درمیان مساوات قائم کرنا ضروری ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس سینیٹر ہمایوں مہمند کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ ذرائع کے مطابق بلیو پاسپورٹ کے اجرا کے معاملے پر وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے ہی سخت مؤقف اختیار کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی اقبال آفریدی کی جانب سے بلیو پاسپورٹ پر اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا معاملہ بھی زیر بحث آ گیا ہے، جس کے باعث اس تجویز کو مزید حساس قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں‌:طلبہ کیلئے اہم خبر،میٹرک نتائج کی تاریخ جاری

متعلقہ خبریں