اہم خبریں

پاکستان نےمتحدہ عرب امارات کو2 ارب ڈالر کی پہلی ادائیگی کر دی

اسلام آباد(رضوان عباسی سے) پاکستان نے دوست ملک متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں جبکہ باقی ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے ادا کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس ادائیگی کے بعد یو اے ای کو تمام مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی مکمل ہو جائے گی۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے بیرونی قرضوں اور ڈپازٹس کی بروقت واپسی کے سلسلے کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے پاس موجود اپنے ڈپازٹس کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں سیف ڈپازٹ کے طور پر رکھے گئے تھے۔ ان ڈپازٹس کا مجموعی حجم تقریباً 3 سے 3.5 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے، جس پر پاکستان تقریباً 6 فیصد سالانہ شرح سود ادا کر رہا تھا۔ یہ رقم 2018 میں پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کو سہارا دینے کے لیے فراہم کی گئی تھی اور گزشتہ برسوں کے دوران اسے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کیا جاتا رہا، تاہم رواں سال دسمبر سے اس میں ماہانہ بنیادوں پر توسیع دی جا رہی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے قومی وقار اور مالی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یو اے ای کی درخواست پر فوری ادائیگی کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں دو ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی ایک ارب ڈالر آئندہ چند روز میں منتقل کر دیے جائیں گے۔ بعض رپورٹس میں کل 3.5 ارب ڈالر کی واپسی کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جس میں پرانے قرضوں کا حصہ شامل ہو سکتا ہے۔

ادائیگی کے عمل میں پاکستان کو دوست ملک سعودی عرب کی جانب سے بھی مالی تعاون حاصل ہوا ہے۔ حال ہی میں سعودی وزارت خزانہ کی جانب سے دو ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو موصول ہوئے جن کی ویلیو ڈیٹ 15 اپریل 2026 بتائی گئی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے پاس موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو طویل مدت کے لیے رول اوور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے اور مجموعی طور پر تین ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں استحکام آیا ہے۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ یہ ایک معمول کا مالی لین دین ہے جو باہمی معاہدوں کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ ادائیگی کسی دباؤ یا سیاسی وجہ کے تحت نہیں بلکہ معاہدے کی تکمیل کے طور پر کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ادائیگی پاکستان کی معاشی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور دوست ممالک کے ساتھ اعتماد برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سے وقتی طور پر بیرونی فنانسنگ گیپ میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن سعودی حمایت اور دیگر مالی ذرائع سے ملنے والی فنڈنگ اس صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دے گی۔
مزید پڑھیں‌:بڑا فیصلہ،سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا اہم اعلان

متعلقہ خبریں