اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک فری اسلام آباد مہم کے تحت پلاسٹک کی بوتلیں موجود ہونے پر دو معروف اسٹورز کو سیل کیے جانے کے بعد انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے وضاحت جاری کردی ہے۔
انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق سنگل یوز پلاسٹک (پابندی) ریگولیشنز 2023 میں پانی، مشروبات اور جوسز کی پیک شدہ بوتلوں پر پابندی شامل نہیں ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ نے گزشتہ رات پلاسٹک کی بوتلیں موجود ہونے پر دو معروف اسٹورز کو سیل کردیا تھا۔
ریگولیشنز کے تحت ایک بار استعمال ہونے والے پولی تھین شاپنگ بیگز، پلاسٹک کی اسٹراز، پلیٹوں، پیالوں، کپوں اور گلاسز سمیت متعدد پلاسٹک مصنوعات پر پابندی عائد ہے۔
قواعد کے مطابق فوری استعمال کے لیے تیار کھانے اور مشروبات کی ترسیل یا پیش کرنے میں استعمال ہونے والے سنگل یوز پلاسٹک کے برتن اور پیکنگ کا سامان، جن میں ڈھکن والے کنٹینرز، ڈبے، کپ، پلیٹیں اور پیالے شامل ہیں، بھی ممنوعہ اشیا میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مشروبات کو ہلانے یا ملانے کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک اسٹرر اور ایسی پلاسٹک اشیا بھی پابندی کے دائرے میں آتی ہیں جو کنٹینرز کے ڈھکنوں سے مشروب باہر گرنے سے روکنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔
انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی وضاحت کے بعد پلاسٹک فری اسلام آباد مہم کے تحت کارروائیوں اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات سامنے آگئے ہیں۔
مزیدپڑھیں: ملک میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ















