اسلام آباد(اے بی این نیوز)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ’انویسٹ پاک‘ کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے اب عام صارفین بھی صرف پانچ ہزار روپے سے براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری طویل عرصے تک زیادہ تر بینکوں اور بڑے مالیاتی اداروں تک محدود سمجھی جاتی تھی تاہم اس منصوبے کے بعد عام شہریوں، نوجوانوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو حکومتی سیکیورٹیز تک محفوظ، آسان اور مکمل طور پر ڈیجیٹل رسائی فراہم کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 6 جولائی کو کراچی میں ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح کرتے ہوئے اسے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، شفاف اور مؤثر بنائے گا۔
آخر یہ پلیٹ فارم کیسے کام کرتا ہے، اس کے ذریعے کن حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے اور یہ نظام پہلے سے کس طرح مختلف ہے؟ ان سوالات کا جواب جاننے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حکومتی سیکیورٹیز یا بانڈز ہوتے کیا ہیں۔
حکومتی سیکیورٹیز کیا ہوتی ہیں؟
دنیا بھر میں حکومتوں کو اکثر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس آمدن سے زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں حکومت صرف بیرونی قرض لینے یا نئی کرنسی چھاپنے کے بجائے مختلف سرمایہ کاروں سے بانڈز کے ذریعے قرض حاصل کرتی ہے۔
حکومتی سیکیورٹی دراصل ایک مالیاتی معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت حکومت سرمایہ کار سے ایک مقررہ مدت کے لیے رقم حاصل کرتی ہے اور اس کے بدلے یہ ضمانت دیتی ہے کہ وہ طے شدہ شرائط کے مطابق منافع ادا کرے گی اور مدت پوری ہونے پر اصل سرمایہ واپس کرے گی۔
سرمایہ کار کو منافع کس صورت میں ملے گا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس نے کس قسم کی سیکیورٹی خریدی ہے۔ بعض سیکیورٹیز پر مقررہ وقفوں سے منافع ادا کیا جاتا ہے جب کہ بعض میں منافع خریداری کی قیمت اور میعاد پوری ہونے پر وصول ہونے والی رقم کے فرق سے حاصل ہوتا ہے۔
چوں کہ ان سیکیورٹیز کی ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے پاکستان میں اسے عمومی طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے۔
#SBP presents InvestPak, a digital platform to invest in Government Securities. Register on InvestPak web portal or mobile app and invest with convenience.
Easy. Secure. Profitablehttps://t.co/9nWzTT6ojp#InvestPak #InvestSmart #DigitalFinance #GovernmentSecurities pic.twitter.com/m9cQGXINTD— SBP (@StateBank_Pak) July 7, 2026
سرمایہ کاری کیسے کریں؟
انویسٹ پاک کے ذریعے انفرادی سرمایہ کار، مشترکہ اکاؤنٹ رکھنے والے افراد، کمپنیاں اور دیگر کارپوریٹ ادارے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
یعنی ہر وہ پاکستانی شہری، چھوٹے سرمایہ کار اور کارپوریٹ کمپنیاں جن کا کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ موجود ہے، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جس کے لیے انویسٹ پاک کے پورٹل پر رجسٹر ہونا لازمی ہے۔
A faster and easier way to invest in Government Securities. Register on InvestPak web portal or mobile app and invest with convenience.
Easy. Secure. Profitablehttps://t.co/9nWzTT6ojp#InvestPak #InvestSmart #DigitalFinance #GovernmentSecurities pic.twitter.com/QHE4VWmSnD— SBP (@StateBank_Pak) July 8, 2026
رجسٹریشن کا طریقہ کار
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے انویسٹ پاک پورٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کا طریقہ کار انتہائی آسان اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے۔ انویسٹ پاک پورٹل پر گھر بیٹھے رجسٹریشن اور آئی پی ایس اکاؤنٹ بنانے کے بعد ہم سرمایہ کاری شروع کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے ویب سائٹ کے ذریعے یا ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے اس پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔
رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ نمبر، ای میل اور موبائل نمبر سمیت درکار معلومات درج کریں۔
اپنے موجودہ بینک اکاؤنٹ کا 24 ہندسوں والا انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر (IBAN) درج کریں۔
سسٹم یہ تمام معلومات تصدیق کے لیے آپ کے بینک کو ارسال کرے گا۔
بینک سے تصدیق ہوجانے کے بعد آپ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر اور ای میل پر ایک ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) موصول ہوگا۔
پورٹل پر او ٹی پی درج کرنے کے بعد آپ کی تصدیق مکمل ہوجائے گی۔
آئی پی ایس (انویسٹر پورٹ فولیو سیکیورٹیز) اکاؤنٹ
جس طرح آپ کو اپنے پیسے رکھنے کے لیے ایک عام بینک اکاؤنٹ (کرنٹ یا سیونگ اکاؤنٹ) کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح حکومتی سیکیورٹیز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھنے کے لیے سرمایہ کاری کے لیے ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ ہونا لازمی ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین کے مطابق، کوئی بھی عام شہری ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ کے بغیر براہِ راست حکومتی سیکیورٹیز خرید یا رکھ نہیں سکتا۔
اگر آپ کا پہلے سے کوئی ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ نہیں ہے تو پورٹل پر رجسٹریشن کے دوران ہی آپ آن لائن ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ کھولنے کی درخواست بھی جمع کروا سکتے ہیں، جس کے لیے اب بینک جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جب آپ ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کے ذریعے کوئی سرکاری بانڈ خریدتے ہیں تو وہ بانڈ کاغذ کی شکل میں نہیں ملتا بلکہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کی صورت میں آپ کے اسی ’آئی پی ایس اکاؤنٹ‘ میں جمع ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: انویسٹ پاک،حکومتی بانڈز میں عام شہری سرمایہ کاری کیسے کرسکتے ہیں؟















