اہم خبریں

حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی غیرقانونی ، بتایا جائے فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد ( نیوزڈیسک ) فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم جاننا چاہتے ہیں دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا۔ سپریم کورٹ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی ، اٹارنی جنرل بیرسٹر منصور اعوان سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد عمل درآمد کیس میں حکومت کی جانب سے بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا۔فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ابصار عالم نے اپنے بیان میں وزارت دفاع کے ملازم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ ان الزامات کے بعد بھی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں؟اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا ابصار عالم کے لگائے الزامات دیکھے ہیں، ہم نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا ابصارعالم فیض آباد دھرنے کے وقت کیا تھے؟ اٹارجی جنرل نے جواب دیا فیض آباد دھرنے کے وقت ابصارعالم چیئرمین پیمرا تھے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا وفاقی حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب بنائی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 19 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر رپورٹ دے گی۔سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عملدرآمد کیلئے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر سوالات اٹھا دیئے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کس قانون کے تحت بنی؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ چیف جسٹس نے کہا کمیٹی بناکر صرف رپورٹس آتی رہیں گی، ہونا کچھ نہیں ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ فیض آباد دھرنا فیصلہ ٹھیک ہے، حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کیا کمیٹی نے جوٹی او آر بنائے ہیں ان میں سب ذمہ داران سے حساب لیا جائے گا، پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، بیرون ملک سے ایک شخص امپورٹ کرکے ملک کو یرغمال بنایا گیا اور وہ واپس لوٹ گیا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے، بچوں سے پوچھیں تو وہ بھی آپ سے بہتر جواب دے سکتے ہیں۔گزشتہ سماعت کا حکمنامہ سننے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ ابصار عالم نے وزرات دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزام لگائے ہیں، کیا اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں؟، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ آپ سے متعلق ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی جس کے ساتھ ہی اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پڑھ دیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ کس کو پیش کرے گی؟، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت دفاع کو پیش کرے گی، رپورٹ پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اس ساری مشق سے اصل چیز مسنگ ہے، یہ سب ایک آئی واش ہے، سب لوگ نظرثانی اپیلیں واپس لے رہے ہیں تو یہ کمیٹی ٹی او آرز آنکھوں میں دھول کے مترادف ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ کیا آپ آج ضمانت دیتے ہیں کہ ملک میں جو ہو رہا ہے آئین کے مطابق ہے؟، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس معاملے کو ہینڈل کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں، ایک صاحب باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں اور پورا ملک مفلوج کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ٹی او آرز اتنے وسیع کر دیے کہ ہر کوئی بری ہو جائے گا، اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر سرکار کو کوئی پرواہ نہیں، ٹی او آرز میں کہاں لکھا ہے کہ کون سے مخصوص واقعہ کی انکوائری کرنی ہے، ہمارا کام حکم کرنا ہے آپ کا کام اس پر عمل کروانا ہے۔

متعلقہ خبریں