جماعت اسلامی کے زیراہتمام امداد ی تنظیم الخدمت فائونڈیشن نے اسرائیلی جارحیت کا شکار فلسطینیوں کیلئے امدادی اشیاء بشمول ادویات اور خوراک کیلئے اب تک ایک ارب روپے سے زائد یعنی 3.62 ملین ڈالر جمع کر لئے ۔عالمی رہنماؤں کے مطالبے کے باوجود فلسطینی شہریوں کو خوراک، ادویات اور امدادی اشیاء تک رسائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ،اس یکطرفہ جنگ میں خواتین اور بچوں سمیت 8,400 فلسطینی اسرائیلی جنگی جرائم کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں الخدمت فاؤنڈیشن امدادی سامان بھیجنے کیلئے ایک مہم چلا رہی ہے۔ نائب صدر عبدالشکور الخدمت فائونڈیشن کا کہنا تھا غزہ کے لوگوں کو امدادی اشیاء فراہم کرنے کیلئے دو ہفتوں کے اندر پاکستانیوں سے ایک ارب روپے اکٹھے کئے ہیں۔ لوگ فلسطینیوں کی مدد کیلئے دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں اور ہمارے فنڈز روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن پانچ دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی مدد سے غزہ کے لوگوں تک پکا ہوا کھانا، ادویات اور دیگر امدادی سامان بھیجنے کا اہتمام کر رہی ہے، جن میں تین ترک خیراتی ادارے بھی شامل ہیں۔ ان تنظیموں کے غزہ میں دفاتر، گودام اور افرادی قوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسائی نہ ہونے کے باعث پاکستانی تنظیمیں فلسطینیوں تک براہ راست امداد نہیں پہنچا سکتیں۔واضح رہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ا پنے شہریوں کو فراہم کردہ پاسپورٹ پر واضح طور پرلکھا ہے کہ یہ دستاویز اسرائیل کا سفر کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔الخدمت فاؤنڈیشن کے نائب صدر عبدالشکور نے نےکہا کہ الخدمت فاونڈیشن اب تک امدادی اشیاء بشمول 4000000ڈالر کی ادویات جمع کرچکا ہے ۔ کی تنظیم نے 45 ملین روپے ($162,527) مالیت کی ادویات اور خوراک بھی ہلال احمر کو اپنے نیٹ ورک کے ذریعے غزہ میں پہنچانے کے لیے حوالے کی ۔ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء ابھی مصر میں پھنسی ہوئی ہیں کیونکہ اسرائیل امداد کو غزہ میں آنے کی انتہائی محدود پیمانے پر اجازت دے رہا ہے۔جو کہ ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔انسانی بنیادوں پر جاری اپنے امدادی آپریشنز کے اگلے مرحلے کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو غزہ لے جانے اور وہاں کے رہائشیوں کا علاج کرنے کے لیے رجسٹر کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں اب تک 1500 سے زیادہ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس علاج کے لیے غزہ جانے کے لیے تیار ہیں۔ہم قاہرہ میں اپنے سفارتی مشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور جیسے ہی ہمیں ان کے ویزوں کے لیے گرین سگنل ملے گا ہم ڈاکٹروں، سرجنوں اور پیرامیڈیکس کی ٹیمیں غزہ بھیجیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس کی اجازت ممکن نہ ہوئی تو برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک سے پاکستانی ڈاکٹروں کو غزہ بھیجنے کا منصوبہ بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ جنہیں اس حوالے سے ویزے کے حصول میں آسانی ہوگی۔بیرون ملک مقیم ڈاکٹروں کی طرف سے پہلے ہی غزہ جانے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔شکور نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی منظور شدہ کچھ تنظیموں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ان کی مدد سے غزہ میں امداد اور کارکن پہنچا سکیں۔















