لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کی چیف آرگنائزرمریم نوازنے کہا ہے کہ نوازشریف کا ایجنڈا معیشت کی بحالی اور مہنگائی سے چھٹکارے کاہے ، نوازشریف کے ہر دور میں پاکستانی معیشت اور عوام کی زندگی بہتر ہوئی،نوازشریف کی آمد کا مطلب کاروبار کا چلنا، صنعت اور تجارت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے،تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن)کی چیف آرگنائزرمریم نوازنے منگل کو ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں سے ملاقات کی،ملاقات میں مریم نوازنے پارٹی قائد نوازشریف کے وژن سے کاروباری برادری کو آگاہ کیااورکہاکہ نوازشریف کا ایجنڈا معیشت کی بحالی اور مہنگائی سے چھٹکارے کاہے ، نوازشریف میثاق معیشت کو تعبیر دینگے ، اداروں کی پھر سے تعمیر کرینگے ، مریم نوازنے کہاکہ نواز شریف بیوروکریسی اورایف بی آر کی اصلاح کریں گے،نیب کے انتقام کا خاتمہ کر کے کاروباری برادری کے تحفظات دور کریں گے،انہوں نے کہاکہ نوازشریف کے ہر دور میں پاکستانی معیشت اور عوام کی زندگی بہتر ہوئی،نوازشریف کی آمد کا مطلب کاروبار کا چلنا، صنعت اور تجارت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے،نواز شریف نے 90کی دہائی میں معیشت اور کاروبار کو حکومتی زنجیروں سے آزاد کیا تھا،انہوں نے کہاکہ ہم صنعتکار اور تاجر برادری کو مراعات دیں گے، عوام اورنجی شعبہ کاروبار کریگا،کاروبار کرنے کی آسانی پیدا کی جائے گی، چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی کریں گے، مریم نوازنے کہاکہ نوازشریف کی معاشی اصلاحات سے ہمسایہ ملکوں نے فائدہ اٹھایا،نوازشریف معیشت کی بحالی، تعمیر اور ترقی کے دور کا نام ہے، مریم نوازنے کہاکہ نوازشریف نے دہشتگردی کا خاتمہ کرکے امن دیا،معاشی ترقی ہوئی ، 2013 میں دہشتگردی تھی، کاروبار ، روزگار اور زندگی کا پہیہ رُک چکا تھا،زراعت اور کسان کی ترقی نوازشریف کے دور میں ہوئی،انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے کسان کو زرعی ٹیوب ویلز پر رعایتی بجلی دی، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خصوصی مراعات دیں، نوازشریف نے توانائی کے بحران ختم کئے، ایل این جی ٹرمینلز بنائے ، گیس کی فراہمی سے انڈسٹری کو ایک نئی زندگی دی تھی، پھر ایسا ہی کریں گے ، مریم نوازنے کہاکہ متبادل توانائی کے ذرائع کو ترقی دے کر ایندھن کا درآمدی بل کم کریں گے، میکرو اکنامک اصلاحات کریں گے، سی پیک کی رفتار تیز اور برآمدات بڑھائیں گے، مریم نوازنے کہاکہ2018 سے 2022 کی تباہی نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ، مریم نوازنے کہاکہ نوازشریف نے 2016 میں آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کیا اور معیشت چلائی۔















