بٹگرام (نیوز ڈیسک) بٹگرام میں چیئر لفٹ سلائیڈ کی رسی ٹو ٹ گئی، لفٹ میں8افراد سوار ہیں جن میں سے 2 استاد اور6 بچے شامل ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جھنگڑئے علاقہ پاشتو تحصیل الائی میں پیش آیا۔ اسکول کے 6 بچوں سمیت 8 افراد 900 فٹ کی بلندی پر پھنس گئے جنہیں بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ریسکیو 1122بٹگرام کی ٹیمیں جھنگڑے کے علاقے پاشتو پہنچ گئیں، وزیراعلیٰ نے فوری واقعے کا نوٹس لے کر فوری اقدامات اُٹھانے کا کہہ دیا۔ نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا ہیلی کپٹر پشاور سے روانہ ہو گیا ہے 50 منٹ میں متعلقہ جگر تک پہنچ جائے گا ۔ خوف سے ایک بچا بے ہوش ہو گیا ۔
بٹگرام میں چیئر لفٹ کا ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل اور کھٹن ہے کیونکہ ڈولی صرف ایک رسی سے لٹکی ہوئی ہے اور ہوا بھی تیز چل رہی ہیں ہیلی کاپٹر نزدیک جانے سے ہوا کے پریشر سے ڈولی ہلنا شروع کر دیتی ہے جس سے آپریشن کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اِس وقت سلنگ آپریشن کے ذریعے تمام اختیاطی تدابیر کو ملحوظ حاطر رکھتے ہُوئے ریسکیو کی کوشش کی جا رہی ہے ریسکیو آپریشن میں سپیشل سروسز گروپ کی سلنگ ٹیم، پاکستان آرمی ایوییشن کے ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں علاقے میں تیز ہوا کی وجہ سے آپریشن کافی مشکل ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ روشنی کا کم ہونا مزید مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے ،رات کے اندھرے میں پھنسے ہووئے افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور ریسکیو آپریشن جاری رکھنا انتہائی کھٹن بن سکتا
ہے تمام مصائب کے باوجود پاک آرمی پھنسے ہُوئے افراد کو ریسکیو کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے
انہوں نے کہا کہ ہم صبح سے مدد کے منتظر ہیں، چیئرلفٹ میں ہم 8 لوگ موجود ہیں ، اس میں موجود بچوں کی عمر10 سے 13 سال کے درمیان ہے۔گلفراز کا کہنا تھا کہ لفٹ میں پھنسے ہمیں 5 گھنٹے ہوگئے، چیئرلفٹ میں ایک لڑکا تین گھنٹے سے بے ہوش ہے، یہ لڑکا دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اسپتال جارہا تھا، لفٹ میں ہم 8 افراد موجود ہیں، چیئرلفٹ میں ہمارے پاس پینے کا پانی تک نہیں اور فون کی بیٹری بھی ختم ہورہی ہے۔
پاک آرمی کا ریسکیو ہیلی کاپٹربٹگرام پہنچ کر ایریاکی ریکی کررہا ہے، ریکی کے بعد بڑے محتاط انداز میں ریسکیو آپریشن کیا جائےگا، یہ ایک انتہائی خطرناک آپریشن ہے، غیرمتوازن ہونے اور ہیلی کاپٹر کے ہوائی پریشر سے لفٹ ٹوٹ سکتی ہے اس لیے انتہائی احتیاط سے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں علاقے میں موجود اسکول کے ٹیچر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ صبح 6 بجے طلبہ چیئرلفٹ کے ذریعے اسکول آرہے تھے، چیئرلفٹ میں ایک بچہ ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہوگیا ہے جسے بعدازاں ہوش آگیا، اس علاقے میں 150 بچے اس طرح لفٹ کے ذریعے اسکول آتے ہیں۔
ظفر اقبال نے بتایا کہ چیئرلفٹ میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا ہے، علاقے میں شانگلہ سے بھی ریسکیو ٹیم پہنچی ہے ،ہیلی کاپٹر چیئر لفٹ کے قریب جائزہ لے رہا ہے۔ڈی پی او بٹگرام سونیا شمروز کے مطابق پوری کوشش ہے کہ لفٹ میں پھنسے افراد کو ریسکیو کریں۔دوسری جانب بتایا جارہا ہے کہ ہیلی کاپٹرسے پیدا ہوائی پریشر سے اکیلی بچ جانے والی تاربھی ٹوٹنے کا خدشہ ہے اس لیے ہیلی کاپٹر سے ریسکیو آپریشن کو انتہائی محتاط انداز میں کیا جائے گا۔















