اہم خبریں

دریائے ستلج میں طغیانی ، بند ٹوٹ گئے، ہرطرف تباہی، فوج کے دستے پہنچ گئے، درجنوں دیہات زیرآب آگئے

قصور(نیوز ڈیسک)قصور میں حفاظتی بند ٹوٹ گئے، دریائے ستلج تیز بہاؤ مزید تباہی مچانے لگا۔۔ دریائے ستلج میں پانی کے تیز بہاوں سے گاؤں ولے والا کا بند ٹوٹ گیا ۔ دریا کا پانی سیلابی پانی تیزی کے ساتھ مزید درجنوں دیہاتوں میں داخل قصور بند ٹوٹنے سے کسانوں کی سینکڑوں ایکڑ فصلیں مزید تباہ ہوگئی، دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انخلا شروع کر دیا ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچنے کے لئیے تلوار پوسٹ سے روانہ ، تلوار پوسٹ کے قریبی گاؤں حاکو والا میں بھی دریا نے گاؤں میں کٹاؤ کرنا شروع کردیا ، دیہاتی خود ہی کسیوں کے ساتھ کٹاؤ کا رخ تبدیل کرنے میں کئی گھنٹوں سے مصروف عمل ہیں۔،قصور کے سیلاب زدگان کیلئے پاک فوج کی زبردست امدادی سرگرمیاں جاری ۔ حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی طرف سے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گنڈا سنگھ والا، دھپ سری، اٹاری، گھٹی کلنگر، اولاکے، جمعے والا، کمال پورہ، بکرکے، اور نجابت شامل ہیں۔دن بھر ہزاروں افراد کو سیلاب سے نکالنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری رہا۔ پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں متاثرہ خاندانوں میں لگ بھگ 16 ٹن مفت راشن بھی تقسیم کیا گیا۔ راشن پیکس آٹا، دال، چاول، گھی اور دودھ سمیت ضروری اشیائے خورد و نوش شامل ہیں۔ تلوار پل، ٹھٹی بخشی اور نجابت کے مقامات پر راشن کی تقسیم جاری رہی۔ اس کیساتھ ساتھ سیلاب زدگان کیلئے ضروری طبی امداد کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا گیا۔ یہ امدادی کارروائیاں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے اور معمولات زندگی بحال ہونے تک جاری رہیں گی۔دریائے ستلج میں سیلاب کے پیش نظر امدادی سرگرمیاں جاری ۔پی ڈی ایم اے ضلع قصور میں سیلاب سے متاثر ہ افراد کے لئے 13ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اےریسکیو آپریشن میں 93کشتیاں، 688لائف جیکٹس، 20ڈمپر، 6ٹریکٹر،2ایکسیویٹر استعمال ہوئے۔ پی ڈی ایم اے قصور میں 24 ہزار سے سے زائد افراد اور16000 سے زائد مویشیوں کو ریسکیو کیا جاچکاہے ۔ پی ڈی ایم اےضلع اوکاڑہ میں سیلاب سے 56 موضع جات اور 30 ہزار ایکڑ سے زائد فصلیں متاثر ہوئیں ۔پی ڈی ایم اےاوکاڑہ میں 11 ریلیف سنٹرز 36 بوٹس اور 756 لائف جیکٹس فراہم کی گئی ہیں ۔پی ڈی ایم اے ضلع پاکپتن میں 52 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔پی ڈی ایم اے پاکپتن میں 11 ہزار سے زائد شہریوں اور 700 سے زائد جانورں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔پی ڈی ایم اےوہاڑی میں 4 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔پی ڈی ایم اے وہاڑی میں 17 ریلیف کیمپس 10 میڈیکل سنٹرز 23 بوٹس اور 230 لائف جیکٹس فراہم کی گئی ہیں۔پی ڈی ایم اےوہاڑی میں سیلاب سے 37 موضع جات اور 22 ہزار ایکڑ سے زائد فصلیں متاثر ہوئیں ۔پی ڈی ایم اے بہاولپور میں 30 فلڈ ریلیف کیمپس 23 کشتیاں اور 16 ریسکیو سپاٹس قائم کئے گئے ہیں ۔ پی ڈی ایم اےانتہائی خطرے کی زد میں آنے والے علاقوں کو%100 خالی کروایا چا چکا ہے ۔عمران قریشی کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں محکمہ صحت ریونیو ریسکیو لائیو سٹاک لوکل گورنمنٹ پولیس اور تعلیم کے اہلکار شامل ہیں ۔عمران قریشی پاک فوج کے اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کے احکامات سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے مکمل انخلاء اور بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی ۔نبیل جاوید نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا ئیں۔نبیل جاوید عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین زمہ داری ہے ۔

متعلقہ خبریں