نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارت کی مختلف ریاستوں میں طوفانی بارشوں، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 100 ہوگئی جبکہ متعدد لاپتہ ہیں،نئی دہلی بارش کے پانی میں ڈوب گیا،سیلابی ریلہ وزیراعلیٰ ہاؤس اوراسمبلی تک پہنچ گیاجبکہ بھارتی دارالحکومت کے 3 پلانٹ زیر آب آگئے جبکہ پینے کے پانی کی قلت کا خدشہ پیداہوگیاہے،شمال میں واقع ہریانہ جیسی ریاستوں میں غیر معمولی طور شدید بارشوں کے بعد دہلی کا دریا 45 برسوں کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر آگیا۔2 کروڑ آبادی والے شہر میں ہفتے کے آخر میں شدید بارشیں ہوئیں جس کے باعث نشیبی آبادیوں میں سیلاب آ گیا اور سیکڑوں لوگ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔سب سے زیادہ تباہی ریاست ہما چل پردیش کے اضلاع میں ہوئی،کئی نشیبی علاقوں میں سیلاب کے بعد کیچڑکی موٹی تہہ بن گئی جبکہ لوگوں کی املاک اورسامان کو شدید نقصان پہنچا،ادھرمحکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش،اتراکھنڈ، پنجاب،ہریانہ،اترپردیش اور مشرقی راجستھان میں مزید موسلا دھاربارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں طوفانی بارشوں، سیلا ب ور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی،مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد100 ہو گئی جبکہ درجنوں افراد زخمی اور متعدد لاپتہ ہیں۔بارشوں سے گھر،عمارتیں ، گاڑیاں،پل اور مندر دریائے پانی میں بہہ گئے، سب سے زیادہ تباہی ریاست ہما چل پردیش کے اضلاع میں ہوئی۔کئی نشیبی علاقوں میں سیلاب کے بعد کیچڑکی موٹی تہہ بن گئی جبکہ لوگوں کی املاک اورسامان کو شدید نقصان پہنچا۔دریائے جمنا میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا، جس کے پیش نظر دہلی اور ہریانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔دہلی کےمتاثرہ علاقوں سے شہریوں کو ریکسیوکرنےکا سلسلہ دن بھر جاری رہا،شمال میں واقع ہریانہ جیسی ریاستوں میں غیر معمولی طور شدید بارشوں کے بعد دہلی کا دریا 45 برسوں کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔2 کروڑ آبادی والے شہر میں ہفتے کے آخر میں شدید بارشیں ہوئیں جس کے باعث نشیبی آبادیوں میں سیلاب آ گیا اور سیکڑوں لوگ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔شہر کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ دہلی کے کچھ علاقوں میں پانی کا مسئلہ ہو گا۔انہوں نے تین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سے متعلق کہا کہ جیسے ہی جمنا میں پانی کی سطح ہوگی، ہم ان پلانٹس کو جلد از جلد چلانے کی کوشش کریں گے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ دریا میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے اور اس دوران سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کا انخلا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں بچانا سب سے اہم ہے، میں دہلی کے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ہنگامی صورتحال میں ہر ممکنہ طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ادھرمحکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش،اتراکھنڈ، پنجاب،ہریانہ،اترپردیش اور مشرقی راجستھان میں مزید موسلا دھاربارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کے قریب واقع شمالی بھارتی ریاستوں میں یکم جون سے شروع ہونے والے مون سون کے بعد سے ریکارڈ بارشیں ہوئیں، اس دوران پنجاب اور ہماچل پردیش میں بالترتیب اوسط سے 100 فیصد اور 70 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اس دوران دہلی میں بھی اوسط سے 112 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔















