اسلام آباد(اے بی این نیوز) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ نہیں ہوسکا تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈز سے مختصر مدت کیلیے اسٹینڈ بائی معاہدہ طے پا جائے گا، جس پر دونوں فریقین مذاکرات کررہے ہیں اور اس میں پیشرفت کا بھی امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آئندہ چند دنوں میں مزید ایک ارب ڈالر اور سعودی عرب سے بھی مزید 2 ارب ڈالر جولائی میں ملنے کی امید ہے۔دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاہدے پر پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، پاکستان نے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے بجٹ میں فیصلہ کن اقدامات کر لیے ہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی تھی کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پر ایک دو دن میں فیصلے کا امکان ہے۔شہباز شریف نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں معاشی صورت حال میں بہتری کے اہداف مشترکہ کوششوں سے حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے نئے پروگرام کا حجم ساڑھے تین ارب ڈالر رکھنے کے خواہاں ہیں لیکن آئی ایم ایف اس پر رضامند نہیں ہے لہٰذا اب اس تناظر میں آئندہ چوبیس گھنٹے اہم ہے اور توقع ہے کہ آئی ایم ایف انتظامیہ نئے پروگرام کے امکان بارے اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کرے گی۔















