اسلام آباد(اے بی این نیوز) آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، فنانس بل کی شق وار منظوری لی گئی۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیٹرولیم لیوی آرڈیننس میں ترامیم پیش کی،پیٹرولیم لیوی کی حد 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لٹرکر دی گئی ۔قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے ترمیم منظور کرلی ۔وفاقی حکومت کو ساٹھ روپے فی لیٹر تک لیوی عائد کرنے کا اختیار ہوگا، ترمیم۔پیٹرولیم لیوی کی حد 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لٹرکر دی گئی ۔فنانس بل کی شق تین ترمیم کیساتھ منظور، وفاقی حکومت کا ٹیکس تنازعات کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ ،3 ہزار 200 ارب روپے کے زیر التواء 62 ہزار کیسز سمیت تنازعات کے حل کے لئے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی،کمیٹی کے فیصلے کے خلاف ایف بی آر اپیل دائر نہیں کرسکے گا تاہم متاثرہ فریق کو عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار ہوگا۔ ترمیم وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی،اپوزیشن کے رکن عبدالاکبر چترالی کی ترمیم منظور، حکومت نے مخالفت نہیں کی۔چیئرمین قائمہ کمیٹیوں کو بارہ سو سی سی تک گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی،اس وقت 1300 سے 1600 سی سی تک گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہےقومی اسمبلی نے فنانس بل 2023 کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،آئندہ مالی سال 2023۔24 کا وفاقی بجٹ منظوروزیر خزانہ نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس میں ترمیم پیش کی جسے قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ترمیم میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔ وفاقی حکومت کو 60 روپے فی لیٹر تک لیوی عائد کرنے کا اختیار ہوگا۔1200 سی سی گاڑی استعمال کرنے کی ترمیم اپوزیشن رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے پیش کی جسے منظور کرلیا جبکہ حکومت نے اپوزیشن رکن کی ترمیم کی مخالفت نہیں کی۔ ترمیم کے تحت چیئرمین قائمہ کمیٹی کو 1200 سی سی گاڑی استعمال کرنے کا اختیار ہوگا۔اس سے پہلے 1300 سی سی سے 1600 سی سی گاڑی استعمال کرنے کی اجازت تھی۔قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوا تمام حکومتی و اپوزیشن ارکان نے فنانس بل میں سود شامل ہونے کی وجہ سے اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے کی مخالفت کر دی۔جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو اسلامی پیمانے پر جانچنے کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کی گئی فنانس بل کی شق تین ترمیم کے ساتھ منظور کر لی گئی۔ ترمیم کے مطابق تین ہزار 200 ارب روپے کے زیر التواء 62 ہزار کیسز سمیت تنازعات کے حل کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔کمیٹی کے فیصلے کے خلاف ایف بی آر اپیل دائر نہیں کرسکے گا تاہم متاثرہ فریق کو عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار ہوگا۔پنکھوں اور بلبوں پر اضافی ٹیکسوں کی ترمیم،پرانی ٹیکنالوجی کے حامل پنکھوں اور بلبوں پر اضافی ٹیکسوں کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی۔پرانی ٹیکنالوجی کے حامل پنکھوں پر یکم جنوری سے 2 ہزار روپے ٹیکس ہوگا جبکہ پرانے بلبوں پر یکم جنوری سے 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔















