اہم خبریں

5 برسوں کے دوران عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنے کا انتباہ

نیویارک(نیوزڈیسک)عالمی درجہ حرارت میں صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ 5 سال کے اندر ہونے کا قوی امکان ہے۔غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق یہ انتباہ اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے کیا گیا۔ڈبلیو ایم او کی جانب یہ انتباہ Global Annual to Decadal Climate Update رپورٹ میں کیا گیا۔عالمی ادارے کے مطابق 2023 سے 2027 کے دوران کم از کم ایک بار درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ ہونے کا امکان 66 فیصد ہے۔رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی کہ آئندہ 5 برسوں میں کم از کم کسی ایک سال کے دوران درجہ حرارت عارضی طور پر صنعتی عہد کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا۔برطانوی ماہر نے بتایا کہ درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ گرین ہاؤس گیسز کے باعث ہوگا مگر ایل نینو لہر بھی اس حوالے سے کردار ادا کرے گی۔ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلیاں ممکنہ طور پر باہم مل جائیں گی اور اگلے سال عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل Petteri Taalas نے کہا کہ رپورٹ کا مطلب یہ نہیں کہ درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہمیشہ کے لیے ہو رہا ہے، تاہم یہ انتباہ کیا گیا کہ ہم اس سطح پر عارضی طور پر پہنچنے والے ہیں اور بتدریج یہ عام ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں