اسلام آباد(اے بی این نیوز )سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں وومن کاکس کا قیام انتہائی خوش ائند ہے ۔ خواتین ارکان پارلیمنٹ مرد ارکان کے مقابلے میں بڑی جانفشانی سے کام کرتی ہیں ۔ صوبوں کی طرح مرکز میں بھی خواتین کی الگ وزارت ہونی چاہیئے وومن پارلیمنٹیری کاکس کی جانب سے خواتین کے لئے بجٹ میں امتیاز سے متعلق تقریب سے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں وویمن کاکس کا قیام ہمارے لئے خوش آئند بات ہے۔پارلیمنٹ خواتین ذمہ داری کے ساتھ کام کررہی ہیں ، جو کام میں نے خواتین کے ذمے لگایا ہے وہ جلدی ہو جاتا ہے، لیکن مرد حضرات وقت پر نہیں کرتے۔خواتین کے حوالے سے قانون سازی کو بھی دیکھنا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا وومن کاکس محض پارلیمنٹ تک ہی محدود نہ رہے۔پارلیمنٹ کا وویمن کاکس عام خواتین کو بھی شامل کرے۔ملتان، بلوچستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کی خواتین کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے خواتین کی فلاح و بہبود کی ایک وزارت ہوتی تھی جو صوبوں کو چلی گئی۔مرکز میں بھی خواتین کی وزارت ہونی چاہیئے، خواتین اسمبلی اور سینٹ میں اس کے لیے آواز اٹھائیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس معاملے میں میری مکمل سپورٹ خواتین کے ساتھ ہوگی۔وومن کاکس خواتین کے لئے مختلف پروجیکٹس پر بھی کام کرے۔ وومن کاکس کی طرف سے بتایا گیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہیں۔پارلیمنٹ میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی قانون سازی کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ شائستہ پرویز ملک اور شاہدہ رحمانی نے کہا کہ اس کے باوجود خواتین کو بجٹ مردوں کے مقابلے میں کم ملتا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں بھی خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ سیکرٹری وویمن کاکس نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں خواتین کی بہ نسبت مردوں کو زیادہ بجٹ دیا جاتا ہے۔آنے والے دنوں میں سالانہ بجٹ آرہا ہے، اس میں خواتین کی بجٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔















