اہم خبریں

اب اسٹیبلشمنٹ تنگ نہیں کرتی تو خفا کیوں ہوتے ہیں؟ نور عالم خان کا سوال

اسلام آباد(نیوزڈیسک)رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہا ہے کہ پچھلے 4 برس میں ہر رکن پارلیمان کو فون آتے تھے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں نور عالم خان نے کہا کہ پچھلے 4 برسوں میں ہر ایم این اے اور سینیٹر کو ٹیلی فون آتے تھے وہ یہ بھول گئے ہیں، پوچھتا ہوں کیا وہ صحیح تھا؟انہوں نے مزید کہا کہ اب ٹیلی فون نہیں آتے، اسٹیبلشمنٹ والے تنگ نہیں کرتے، یہ اس بات پر خفا کیوں ہوتے ہیں؟نور عالم خان نے یہ بھی کہا کہ یہ کہتے ہیں امپورٹڈ حکومت پوچھنا تھا کہ ابھی امریکی سینیٹرز اور کانگریس مینز سے کون مل رہا ہے؟ کون اُن سے باتیں کر رہا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی لیڈر ہے جو چاہتا ہے پاکستان میں عدم استحکام آئے، الیکشن سے کوئی نہیں ڈرتا، ہم الیکشن لڑ کر دوبارہ آئیں گے اور یہ باہر بیٹھیں گے۔رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھی پارٹیوں کے لیڈرز شہید ہوئے، اگر پنجاب کے انتخابات پہلے ہوں گے تو دوسرے صوبوں پر اثرات پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس قانون کی مخالفت کررہے ہیں وہ ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار ہیں، فاٹا کے لوگوں کو اپنی سیٹیں پوری نہیں ملیں پہلے مردم شماری کروائیں۔

متعلقہ خبریں