اسلام آباد(نیوزڈیسک) سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، عدالت نے آج سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو طلب کررکھا ہے۔سپریم کورٹ میں آج سماعت کے موقع پر سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ میں انہی افراد کو داخلے کی اجازت ہے جن کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس یحیٰی آفریدی نے درخواستوں کو مستردکیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواستوں کو مسترد نہیں کیا، اس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے جسٹس یحیٰی آفریدی کے فیصلے سے اتفاق کیا تھا، 9رکنی لارجربینچ نے 2 دن کیس کی سماعت کی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ججز نے27 فروری کے آرڈر میں بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ مجھے بھجوایا، ہمیں کوئی فیصلہ بتائیں جس میں چیف جسٹس کو نیا بینچ بنانے سے روکا گیا ہو؟ اس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ پشاورکا کیس ہے جس میں چیف جسٹس کو مرضی کے بینچ سے روکا گیا۔ چیف جسٹس نےکہا کہ پشاورکیس کا حکم آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہے۔اٹارنی جنرل نےکہا کہ یکم مارچ کا آرڈر آف دی کورٹ اب تک جاری نہیں ہوا، چیف جسٹس نے کہا کہ کون سا قانون یا ضابطہ عدالت کو آرڈر آف دی کورٹ جاری کرنےکا پابند کرتا ہے؟ کیاآپ 4 ججز کے فیصلے کو ہی جوڈیشل آرڈر تسلیم کرتے ہیں؟ اگر 4 ججزکا فیصلہ ہی تسلیم کرلیں تب بھی بینچ تشکیل دینےکا اختیار کیاچیف جسٹس کے سوا کسی کو ہے؟اٹارنی جنرل نےکہا کہ یکم مارچ کو کوئی عدالتی حکم موجود نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 5 رکنی بینچ کبھی بنا ہی نہیں تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصلے میں عدالت نے پنجاب کے لیے صدر اور کے پی کے لیےگورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا، گورنر کے پی نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنےکا اختیار نہیں دیتا، عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائےگئے تھے، عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لےکر حکم جاری کرتی ہے، جس حکم نامے کا ذکر کر رہے ہیں اس پر عمل ہوچکا۔جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ اصل معاملہ الیکشن کمیشن کے حکم نامےکا ہے، عدالتی حکم الیکشن کمیشن پر لازم تھا، الیکشن کمیشن کا حکم برقرار رہا توباقی استدعا ختم ہوجائیں گی۔اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا کہ پہلے راؤنڈ میں 9 رکنی بینچ نے مقدمہ سنا تھا، 21 فروری کو سماعت کا حکم نامہ آیا، دو ججز کے اختلافات کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں، دو ججز نے پہلے دن درخواستیں خارج کردی تھیں۔















