اہم خبریں

بحران شدید،اسرائیلی وزیراعظم کے عدالتی اصلاحات قانون سے پیچھے ہٹنے کا امکان

تل ابیب( اے بی این نیوز   )اسرائیل میں حکومت کی جانب سے مجوزہ عدالتی اصلاحات کے قانون کے معاملہ پر بحران شدت اختیار کرگیا۔ عدالتی اصلاحات کے خلاف جنوری سے مظاہرے جاری ہیں۔ مجوزہ قانون کو مسترد کرنے پر وزیر دفاع گیلنٹ کو برطرف کردیا گیا، جس کے جواب میں مظاہروں کی انتظامیہ نے تل ابیب میں بڑے مظاہرے کا اعلان کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم عدالتی اصلاحات قانون سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ ایک تقریر میں کرینگے تاہم اس دوران وہ عدالتی اصلاحات منصوبے کے مخالفت کرنے والے وزیر دفاع گیلنٹ کی بحالی کا اعلان نہیں کریں گے۔یہ معلومات اس وقت سامنے آئی ہیں جب کنیسٹ کی آئینی کمیٹی نے جاری ہنگامی آرائی کے باوجود اپنی میٹنگوں کے دوران دوسری اور تیسری خواندگی میں ججوں کی تقرری کے قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی عمارت کے سامنے آج بڑے مظاہرے کا اعلان کے تناظر میں کنیسٹ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز کی تعداد کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اس دوران برطرف کئے جانے والے وزیر دفاع مسٹر گیلنٹ بحران کے سکیورٹی پر اثرات کے حوالے سے بحث میں حصہ لینے کے لیے خارجہ امور اور سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کنیسٹ پہنچے۔دریں اثنا لیکوڈ پارٹی کے وزراء کی اکثریت نے عدالتی اصلاحات کے نام پر قانون میں کی جانے والی ترامیم کو روکنے کی حمایت کا اظہار کردیا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے منصوبے کے متعلق قانون سازی کو “فوری طور پر روک” دے۔ اس منصوبے نے نے ملک کو مہینوں تک تقسیم کیا ہے۔

متعلقہ خبریں