اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ اگر دانائی سے فیصلہ نہ ہوا تو فساد، انارکی اور افراتفری پھیلےگی، سیاسی ومعاشی استحکام نہیں آئے گا،سپریم کورٹ کےحکم کو رد کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے، ہم آئین کےمطابق معاملات آگےبڑھانا چاہتے۔آج سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کو رہنمائی کا اختیار حاصل ہے؛ حکومت اور اداروں کی رہنمائی کرے، ہیں کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے شیڈول دیا، ہم نے اس حکم کےتحت انتخابی عمل شروع کیاہے ۔انہوں نے کہا کہ جو آڈیو لیک ہوئی، کیا علی ساہی کا کوئی وجود نہیں ہے؟ دو بیٹوں کا بھی ذکر ہوا ہے، ان معاملات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر یہ کہانی جھوٹی ثابت ہو تو پھر ہمیں سزا دی جائے۔
صوبائی الیکشن کے بعد حکومت برسراقتدار حکومت کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ہو گی، صاف شفاف الیکشن کے انعقاد پر سوالیہ نشان اٹھیں گے۔ ساری اسمبلیوں کے الیکشن نگران حکومتوں کی موجودگی میں بیک وقت شفاف اور منصفانہ ہونگے تو یہ ملک کے لئے بہتر ہو گا۔
— Rana SanaUllah Khan (@RanaSanaullahPK) March 23, 2023
انہوں نے کہا کہ صوبائی الیکشن کے بعد برسراقتدار حکومت کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ہوگی، صاف شفاف الیکشن کے انعقاد پر سوالیہ نشان اٹھیں گے۔















