اسلام آباد (اے بی این نیوز )الیکشن کمیشن نے پنجاب میں عام انتخابات کا شیڈول واپس لے لیا، اب پنجاب میں عام انتخابا ت کی پولنگ 8 اکتوبر کو ہو گی،الیکشن کمیشن نے اسٹیک ہو لڈرز کی بریفنگ کے بعد حکم نامہ جاری کر دیا۔آٹھ اکتوبر کو انتخابات کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا،پنجاب میں انتخابات ملتوی ہونے سے متعلق صدر پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 218(3) اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 58 اور 8سی کے تحت ملتوی کیے ہیں،الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے موجودی حالات میں صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں،وزارت دفاع، وزارت داخلہ، وزارت خزانہ، ملٹری ڈائریکٹوریٹ اور چیف سیکرٹری پنجاب کی رپورٹ کے بعد الیکشن ملتوی کیے جاتے ہیں، کمیشن نے بیس، 21 اور بائیس کو منعقد اجلاسوں میں تمام وزارتوں کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔یاد رہے کہ مارچ کے مہینے میں الیکشن کمیشن کی طرف سے 30 اپریل بروز اتوار کو پنجاب میں صوباءی اسمبلی کے عام انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا، اور بتایا گیا تھا کہ 12 مارچ سے 14 مارچ تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں، امیدواروں کے ناموں کی فہرست 15 مارچ کو آویزاں کرے گا، کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی 22 مارچ تک کی جائے گی۔واضح رہے کہ 3 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کی تجویز دی تھی۔قبل ازیں 3 مارچ کو ہی الیکشن کمیشن نے 30 اپریل سے 7 مئی کے دوران پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تاریخ تجویز کی تھی، الیکشن کمیشن نے انتخابات ترجیحاً اتوار کے روز کرانے کی تجویز بھی دی تھی۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب اس سے ایک روز قبل ہی پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر سے متعلق از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلسل دوسرے روز ہونے والے مشاورتی اجلاس میں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں عیدالفطر کے تقریباً ایک ہفتے بعد انتخابات کرانے کی تجویز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ تجویز کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کیے گئے خط کی منظوری کے بعد پولنگ کا شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں، تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔سپریم کورٹ نے اس میں یہ بھی کہا تھا کہ صدر مملکت اور گورنر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پاکستان کی مشاورت سے بالترتیب پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تاریخیں طے کریں گے۔پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو تحلیل ہوئیں، قانون کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔ اس حساب سے 14 اپریل اور 17 اپریل پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے انعقاد کی آخری تاریخ تھی لیکن دونوں گورنرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کی تاریخ مقرر کرنے کی تجویز ملنے کے بعد انتخابات کی تاریخیں طے کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرنے کا مشورہ دیا۔دونوں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹرز جنرل نے الیکشن کمیشن سے ملاقاتوں کے دوران کہا تھا کہ ان کے پاس پولیس فورس کی کمی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کا مقدمہ بنایا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں کے گورنرز کو خط میں لکھا تھا کہ پنجاب میں انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرانا لازمی ہیں، انتخابات کی تاریخ کے لیے الیکشن کمیشن سے مشاورت ضروری ہے، پنجاب میں انتخابات 13 اپریل سے پہلے کرائے جانے لازمی ہیں، پنجاب میں انتخابات کے لیے 9 اپریل سے 13 اپریل کی تاریخ موزوں ہیں، گورنر پنجاب 9 اپریل سے 13 اپریل کے درمیان کی تاریخ الیکشن کے لیے اعلان کریں۔















