اہم خبریں

وزارت صنعت پیداوار کے ذیلی ادارے پی جےجی ڈی سی کو بند کرنے کی کوششیں

اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) وزارت صنعت پیداوار کے ذیلی ادارے پی جےجی ڈی سی کو بند کرنے کی کوششیں ، جیمز اینڈ جیولری سیکٹر سے وابستہ طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ، جس کی رائے کے مطابق ملکی معیشت کی ترقی اور غیرملکی ذرمبادلہ کے حصول کی صلاحیت رکھنے والے اس سیکٹر سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی بجائےاس کو بند کر دینا ملک دشمنی کے مترادف ہوگا ، ذرائع کے مطابق پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈویلپمنٹ کمپنی 2006 میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PIDC) کے ذیلی ادارے کے طور پر قائم کی گئی تھی، جو وزارت صنعت و پیداوار، حکومت پاکستان کے تحت کام کرتی ہے۔ کمپنی کا چارٹر پاکستان کی جواہرات اور زیورات کی صنعت کی کان سے مارکیٹ تک ویلیو چین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا تھا۔کمپنی کا مقصد اسکل ڈیولپمنٹ، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن، کوالٹی ایشورنس اور مارکیٹنگ/برانڈنگ اقدامات کے ذریعے برآمدات کو بڑھانا ہے۔ کمپنی کا مینڈیٹ پاکستان کو قیمتی پتھروں کی کٹائی اور زیورات کی تیاری اور ڈیزائننگ کے لیے ایک اعلیٰ ویلیو ایڈڈ، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی، عالمی معیار کے مرکز کے طور پر قائم کرنا تھا۔ابتدا میں کمپنی کے اپنے کام کو بھرپور اندازسے ادا کیا جس کے نتیجے میں ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ، لیکن چند سال بعد ہی بیوروکریسی کی جانب سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر دانستہ اس کمپنی کو ناکام بنانے کی کوششوں کو آغاز ہوا جن کے نیتجے میں یہ کمپنی نے کئی سالوں سے غیر فعال چلی آ رہی ہے موجودہ حکومت کی طرض ماضی کی حکومتوں نے بھی اس کی اہمیت سےآگاہ ہونے کے باوجود اس کو فعال بنانے اور ملکی معیشت کی ترقی کے لیے اس کو سہارا بنانے کی کوئی کوشش نہ کی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ 2017 کے بعد سے اب تک پانچ سال گزرنے کے باوجود آج تک اس کے مستقل سی ای او کا تقرر نہیں کیا گیا ، نتیجتا اس کمپنی کی عارضی چارچ پر چلایا جا رہا ہے ، جبکہ کئی سالوں سے کمپنی کو مناسب فنڈز بھی فراہم نہیں کیے گئے اور اب کمپنی کو بند کرنے کی عملی کوششوں کا آغاز ہو گیا ہے اور موجودہ سی ای او کی جانب سے بھی کمپنی کو فعال بنانے کا کوئی منصوبہ تشکیل دینے کی بجائے اس کی بندش کی سمری تیار کر کے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کو ارسال کر دی گئی ہے ،۔جیمز اینڈ جیولری سیکٹر نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم سے اس صورتحال کا نوٹس لینے اور اس صنعت کی صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر زر مبادلہ میں اضافے کے لیے کوئی قابل عمل پلان تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں