اسلام آباد(اے بی این نیوز )نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) کے زیر اہتمام سیلاب و بارش کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی تین روزہ فرضی مشقیں جمعرات کو یہاں اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئیں، مشقوں میں ہنگامی صورتحال میں خدمات سر انجام دینے والے تمام وفاقی و صوبائی محکموں،محکمہ موسمیات ، مسلح افواج، ریسکیو 1122 ، ایف ایف سی، اقوام متحدہ اور مختلف این جی اوز نے شرکت کی جب کہ وزرات موسمیاتی تبدیلی ، یونیسیف اور ویلٹ ہنگر ہلف (WHH) نے این ڈی ایم اے سے تعاون کیا۔اختتامی تقریب سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں میں باہمی روابط کو بڑھانا ہوگا ،موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج آفاقی ہے پاکستان میں گزشتہ سال کا سیلاب سب کے لیے ایک سبق ہے۔ وفاقی وزیر نے فرضی مشقوں کے انعقاد پر این ڈی ایم اے،مسلح افواج ، وفاقی و صوبائی اداروں ، اقوام متحدہ اور دیگر شراکتی اداروں کے کردار کی تعریف کی ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیٹ ویوو میں اضافہ اور جنگلات تیزی سے کم ہورہے ہیں۔جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کو روکنے کے حوالے سے بھی فرضی مشقیں جلد کی جائیں گی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے فرضی مشقوں کے انعقاد کو شاندار تجربہ قرار دیا اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے تمام اداروں کی تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا ۔انھوں نے کہا کہ مشقوں کے انعقاد سے ان علاقوں کی نشاندھی میں مدد ملی ہے جہاں کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے زور دیا کہ خاص طور پر بارش کی ہنگامی صورتحال کے لیے ادارے باہمی روابط کو مضبوط بنائیں ۔ تقریب سے یو این آر سی کے کنٹری ہیڈ جولین ہارنیس نے بھی خطاب کیا اور شرکاء میں تعریفی سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔















