اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے مالی امداد حاصل کرنے والی خواتین کے لیے اہم اعلان سامنے آگیا ہے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا ہے کہ بینظیر کفالت پروگرام کی آئندہ سہ ماہی قسط جلد جاری کردی جائے گی، جبکہ اس مرتبہ رقم کی ادائیگی کے لیے نیا انٹرآپریبلٹی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ای کچہری کے دوران مستحق خواتین کو بتایا کہ نئے نظام کے تحت بینیفشریز کو اپنی رقم وصول کرنے کے لیے کسی ایک مخصوص بینک یا ادائیگی مرکز تک محدود نہیں رہنا پڑے گا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی کے مطابق انٹرآپریبلٹی نظام کے تحت مستحق خواتین چھ پارٹنر بینکوں کے مجاز پے پوائنٹس سے اپنی رقم وصول کرسکیں گی۔ ان بینکوں اور ادائیگی کے ذرائع میں شامل ہیں:
حبیب بینک
حبیب مائیکروفنانس بینک
بینک الفلاح
جاز کیش
ایزی پیسہ
بینک آف پنجاب
اس سہولت کے تحت خواتین اپنی آسانی کے مطابق ان میں سے کسی بھی پارٹنر کے مجاز پے پوائنٹ سے ادائیگی حاصل کرسکیں گی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ جیسے ہی امدادی رقم بینیفشری کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگی، ان کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایس ایم ایس بھیج دیا جائے گا۔ پیغام موصول ہونے کے بعد خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی مجاز پے پوائنٹ سے رقم وصول کرسکیں گی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ رقم نکلوانے کے بعد بینک کی جانب سے دوسرا تصدیقی پیغام بھی موصول ہوگا، جس میں وصول کی گئی رقم کی تفصیلات درج ہوں گی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بینیفشریز کو ہدایت کی کہ وہ رقم منتقلی اور وصولی سے متعلق دونوں ایس ایم ایس محفوظ رکھیں۔ اس کے علاوہ رقم نکلوانے کے لیے اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر، ایجنٹ یا دوسرے شخص کے حوالے نہ کریں۔
ان کے مطابق نئے نظام کا مقصد مستحق خواتین کو ادائیگی کے عمل میں مزید سہولت فراہم کرنا اور مختلف خدمات تک ان کی رسائی آسان بنانا ہے۔
ای کچہری کے دوران سینیٹر روبینہ خالد نے مستحقین سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے مسائل اور شکایات سنیں۔ اس موقع پر انہوں نے مجموعی طور پر 24 فون کالز موصول کیں اور متعلقہ افسران و عملے کو ہدایت کی کہ شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔















