لاہور: سوئی ناردرن گیس کمپنی نے گھریلو صارفین کے لیے نئے گیس کنکشن کی فراہمی پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی ہے، جبکہ کمرشل تندوروں، ہوٹلوں اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے بھی نئے کنکشن بند کردیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے باعث ارجنٹ فیس جمع کرانے والے ہزاروں صارفین بھی تاحال گیس کنکشن حاصل نہیں کرسکے۔
ذرائع کے مطابق نئے کنکشن کی فراہمی پر پابندی میں توسیع کے بعد ایسے صارفین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں جنہوں نے پہلے ہی درخواستیں جمع کرانے کے ساتھ اضافی فیس بھی ادا کر رکھی ہے۔ فی الحال انہیں کنکشن کی بحالی سے متعلق مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث موجودہ گیس نظام میں بھی قلت بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے ساتھ ایل پی جی کی فراہمی سے متعلق مسائل نے بھی صارفین کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں گھروں کو گیس کی فراہمی برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج بن رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں طلب بڑھنے سے قلت کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ نئے کنکشن پر پابندی وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے عائد کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگی صورتحال ختم ہونے کے بعد ہی نئے گیس کنکشن کی بحالی کا امکان ہے۔ اس وقت صارفین کو مقررہ شیڈول کے مطابق گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
نئے کنکشن کے منتظر صارفین کے لیے فی الحال کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی، جس کے باعث ارجنٹ فیس جمع کرانے والے افراد بھی کنکشن کی فراہمی کے منتظر ہیں۔















