اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان میں موسم سرما کے دوران بجلی صارفین کو بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، دسمبر، جنوری اور فروری میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل) میں دو سے تین گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سردیوں میں بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ عالمی منڈی میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، کوئلے اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی پیدا کرنا مہنگا ہو رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کی گیس کی طلب بڑھنے کے باعث پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی محدود فراہمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب سردیوں میں پن بجلی کی پیداوار بھی نمایاں طور پر کم رہنے کی توقع ہے، جس سے بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن، خصوصاً ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ حکام نے گزشتہ مہینوں میں ایندھن کی لاگت کم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تاہم محدود پیداواری وسائل اور مہنگے ایندھن کے باعث بجلی کی لاگت بڑھنے کا امکان برقرار ہے۔
اگر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں متوقع اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر آنے والے مہینوں میں صارفین کے بجلی کے بلوں پر پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی اضافے کا انحصار متعلقہ مہینوں کی اصل پیداواری لاگت اور نیپرا کے فیصلوں پر ہوگا۔
مزیدپڑھیں: سولر پینلز کی قیمتوں میں استحکام، یکم نومبر کے نئے ریٹس سامنے آگئے















