اسلام آباد: پاکستان میں سائبر فراڈ کے باعث گزشتہ تین سال کے دوران شہریوں کو 8 ارب 32 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ اس رقم میں سے صرف 2 ارب 86 کروڑ روپے واپس حاصل کیے جاسکے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو دی گئی بریفنگ میں آن لائن دھوکا دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مالی نقصانات سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے گئے۔
بریفنگ کے مطابق تین سال کے دوران سائبر فراڈ سے متعلق مجموعی طور پر 2 لاکھ 27 ہزار 757 شکایات موصول ہوئیں۔ ان واقعات میں شہریوں کی بڑی رقوم ضائع ہوئیں، تاہم تمام متاثرہ رقم کی واپسی ممکن نہیں ہوسکی۔
سائبر فراڈ کے کتنے مقدمات درج ہوئے؟
NCCIA کی بریفنگ کے مطابق موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر حکام نے 2 ہزار 407 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) درج کیں، جبکہ سائبر کرائم کے مختلف مقدمات میں 3 ہزار 82 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آن لائن دھوکا دہی کے خلاف کارروائیوں کے باوجود متاثرین کی مالی رقم واپس حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ڈیجیٹل لین دین کے ذریعے منتقل کی گئی رقم کا سراغ لگانے اور اسے واپس لانے میں مختلف مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
رواں سال بھی 3 ارب روپے سے زائد کا نقصان
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سائبر فراڈ کے باعث مالی نقصان کا سلسلہ جاری ہے اور رواں سال کے دوران ہی ان جرائم میں شہریوں کے 3 ارب روپے سے زیادہ ضائع ہوئے۔
آن لائن دھوکا دہی میں جعلی پیغامات، مشکوک لنکس، جعلی کالز اور مالی معلومات حاصل کرنے کے مختلف طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ایسے واقعات میں شہریوں کو نہ صرف اپنی جمع پونجی سے محروم ہونا پڑتا ہے بلکہ رقم کی واپسی کے لیے طویل کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
کتنی رقم واپس حاصل کی جاسکی؟
اعداد و شمار کے مطابق سائبر فراڈ سے ہونے والے مجموعی 8.32 ارب روپے کے نقصان میں سے 2.86 ارب روپے کی ریکوری ہوئی۔ اس طرح رپورٹ میں بیان کردہ مجموعی نقصان کا تقریباً ایک تہائی حصہ واپس حاصل کیا جاسکا، جبکہ باقی رقم کی واپسی ان اعداد و شمار میں ظاہر نہیں ہوتی۔
یہ صورت حال سائبر کرائم کی روک تھام، شکایات پر بروقت کارروائی اور مالی لین دین کا سراغ لگانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
شہری آن لائن فراڈ سے کیسے محفوظ رہیں؟
ماہرین کی عمومی حفاظتی ہدایات کے مطابق شہریوں کو نامعلوم افراد کے ساتھ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پاس ورڈ اور تصدیقی کوڈ شیئر نہیں کرنے چاہییں۔ بینک یا کسی سرکاری ادارے کے نام سے آنے والی مشکوک کال پر فوراً اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے کے سرکاری رابطہ نمبر سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
اگر کسی شخص کے ساتھ سائبر فراڈ ہو جائے تو اسے فوری طور پر اپنے بینک یا متعلقہ مالیاتی ادارے کو اطلاع دینی چاہیے اور مجاز سائبر کرائم ادارے میں شکایت درج کرانی چاہیے۔ فوری اطلاع سے رقم کی منتقلی روکنے یا اس کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم رقم کی واپسی کی ضمانت نہیں ہوتی۔















