اہم خبریں

A hooded hacker at a laptop surrounded by digital locks and financial symbols, with a smartphone in the foreground displaying a fake banking OTP text alert, alongside the official NCCIA and PTA logos warning against online cyber fraud in Pakistan.

شہری ہوشیار ! آن لائن فراڈ کے نئے اور خطرناک طریقے سامنے آ گئے! سائبر فراڈ کے حوالے سے این سی سی آئی اے کے سینیٹ میں ہوشربا انکشافات

پاکستانیوں کے 8 ارب روپے لٹ گئے: سائبر فراڈ پر سینیٹ میں ہوشربا انکشافات

اسلام آباد: پاکستان میں سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران ہیکرز اور جعل سازوں نے پاکستانی شہریوں کو 8 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکہ لگایا ہے، جبکہ حکام ان چوری شدہ فنڈز کا صرف 34 فیصد ہی ریکور کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی میں این سی سی آئی اے (NCCIA) کی بریفنگ

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے انکشاف کیا کہ 2024 سے 2026 کے درمیان انہیں آن لائن فراڈ سے متعلق 2,27,757 شکایات موصول ہوئیں۔ ایجنسی نے 2,407 باقاعدہ مقدمات درج کر کے 3,082 گرفتاریاں کیں، تاہم صرف 2 ارب 86 کروڑ روپے کی ہی ریکوری ممکن ہو سکی۔ حکام کے مطابق صرف 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں ہونے والا مالی نقصان 3 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2024 اور 2025 کے مجموعی نقصان سے بھی زیادہ ہے۔

آن لائن فراڈ کے 5 بڑے طریقے

  • جعلی کالز (Impersonation): فراڈیے بینک یا سرکاری اہلکار بن کر شہریوں سے او ٹی پی (OTP) اور پن کوڈز حاصل کرتے ہیں۔
  • فشنگ (Phishing): واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پر جعلی لنکس بھیج کر شناختی کارڈ اور ذاتی ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔
  • اکاؤنٹ ہیکنگ: سوشل میڈیا اور واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے پیسے مانگے جاتے ہیں۔
  • کرپٹو اور پونزی سکیمیں: انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر جعلی ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی تشہیر کی جاتی ہے۔
  • ڈیجیٹل بلیک میلنگ: چوری شدہ یا جعلی نجی تصاویر کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کر کے تاوان وصول کیا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں میں چینی باشندوں سمیت غیر ملکی بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کی کارروائیاں اور ریکوری میں حائل رکاوٹیں

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے فراڈ میں استعمال ہونے والے 15,039 لنکس، 12,800 سے زائد جعلی ویب سائٹس اور ایپس کو بلاک کیا ہے۔ تاہم این سی سی آئی اے کے مطابق ریکوری میں چار بڑی رکاوٹیں ہیں: فراڈ کی رقم فوری طور پر مختلف ‘میول اکاؤنٹس’ (Mule Accounts) میں منتقل ہو جانا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے عدالتی پیشگی اجازت کی شرط، غیر ملکی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا ملنے میں تاخیر، اور مختلف اداروں میں شواہد کا بکھرا ہونا۔

نئے لائحہ عمل کی تجاویز

این سی سی آئی اے نے سائبر فراڈ کو روکنے کے لیے ‘نیشنل سائبر فراڈ کوآرڈینیشن سیل’ کے قیام کی تجویز دی ہے جو سٹیٹ بینک، پی ٹی اے، نادرا اور بینکوں کو آپس میں منسلک کرے گا۔ اس کے علاوہ ایجنسی نے مشکوک ٹرانزیکشنز کو فوری طور پر 24 سے 72 گھنٹے کے لیے منجمد کرنے کے خصوصی قانونی اختیارات بھی مانگ لیے ہیں۔

سائبر کرائم کے اعداد و شمار (2024 – 2026)

تفصیلات اعداد و شمار
شہریوں کا مجموعی مالی نقصان 8 ارب 32 کروڑ روپے
ریکور کی گئی رقم (34 فیصد) 2 ارب 86 کروڑ روپے
درج شدہ شکایات کی تعداد 2 لاکھ 27 ہزار 757
2026 کے ابتدائی 9 ماہ کا نقصان 3 ارب روپے سے زائد
بلاک کی گئی جعلی سائٹس/ایپس (PTA) 12,800 سے زائد
بلاک کی گئی موبائل سمز / نمبرز 6,818 نمبرز

متعلقہ خبریں