اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان میں 101 سے 200 ڈالر مالیت کے درآمدی موبائل فونز پر ایڈوانس انکم ٹیکس میں 89 فیصد کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد فی ہینڈ سیٹ ٹیکس 930 روپے سے کم ہو کر 100 روپے رہ گیا ہے۔
نظرثانی شدہ شرحوں کے مطابق، موبائل ہینڈ سیٹ پر عائد لیوی بھی 600 روپے سے کم کرکے 200 روپے کر دی گئی ہے۔ تاہم، سیلز ٹیکس کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس کے باعث درآمدی موبائل فونز پر دیگر قابلِ اطلاق ٹیکس برقرار رہیں گے۔
حکومتی اقدامات کے تحت درآمدی موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی سے مخصوص قیمتوں کے زمرے میں آنے والے ہینڈ سیٹس کی درآمدی لاگت کم ہونے کا امکان ہے، تاہم اس کا اثر ریٹیل قیمتوں پر دکانداروں کی قیمتوں اور دیگر ٹیکسوں کے مطابق ہوگا۔
یہ اقدامات فنانس ایکٹ 2026-27 کے تحت ٹیکسوں کو معقول بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ حکومت نے مختلف قیمتوں کے زمروں میں آنے والے درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کمی کی ہے۔
قومی اسمبلی میں تحریری جواب کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اعلان کردہ ریلیف نافذ کر دیا گیا ہے اور فی الحال درآمدی موبائل فونز پر ٹیکسوں میں مزید تبدیلی زیرِ غور نہیں۔
صارفین کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ ٹیکس میں کمی کا فائدہ دکاندار موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں عوام تک پہنچاتے ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ ٹیکس میں کمی کے باوجود تمام درآمدی اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں یکساں کمی ضروری نہیں۔
مزیدپڑھیں: آج بروز ہفتہ 24 اکتوبر صرافہ بازار میں سونے کی تازہ ترین قیمت













