اہم خبریں

غربت کے خاتمے کا عالمی دن، پاکستان میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے چیلنجز نمایاں

اسلام آباد (اے بی این نیوز) غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں غربت، بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے مسائل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ملک میں مہنگائی، محدود آمدنی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کے بڑھتے اخراجات کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کو خوراک، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر ہر سال 17 اکتوبر کو عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد غربت میں زندگی گزارنے والے افراد کے مسائل اجاگر کرنا اور معاشرتی و معاشی ناہمواریوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔

پاکستان میں غذائی عدم تحفظ ایک اہم سماجی و معاشی مسئلہ ہے۔ کمزور معاشی حالات، بے روزگاری، موسمیاتی تبدیلیوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات غریب اور کم آمدنی والے طبقوں پر زیادہ پڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق غربت اور بھوک میں کمی کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانے اور غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔

غربت کے خاتمے کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی ہے کہ غربت کا مقابلہ صرف مالی امداد سے نہیں بلکہ معاشی مواقع کی منصفانہ تقسیم، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مستقل حکمتِ عملی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان 2026 میں بھوک کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ رواں سال ملک میں 1 کروڑ 6 لاکھ افراد کو انسانی امداد درکار ہوگی۔ رپورٹ میں موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، بے گھر ہونے اور انسانی امداد کے لیے محدود فنڈنگ کو غذائی عدم تحفظ کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں: اسلام آباد میں جرائم بڑھنے لگے، شہریوں میں تشویش کی لہر

متعلقہ خبریں