اسلام آباد(اے بی این نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اربوں روپے کے مبینہ آن لائن جوئے کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق مبینہ طور پر آن لائن جوئے سے حاصل ہونے والی رقوم کی وصولی، منتقلی اور تصفیے کے لیے متعدد کمپنیوں، بینک اکاؤنٹس، موبائل پیمنٹ سروسز اور کرپٹو کرنسی کا استعمال کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق 11 کمپنیوں کے مجموعی کریڈٹ ٹرن اوور کی مالیت 119 ارب 93 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی، جبکہ ان کمپنیوں کا مجموعی ڈیبٹ ٹرن اوور 118 ارب 80 کروڑ روپے سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
@abnnewspk موبائل گیمز یا اربوں کا مبینہ آن لائن جوا؟ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے رقم کی منتقلی بے نقاب، B9 Game، S9 Game اور دیگر پلیٹ فارمز کا نام سامنے آگیا ABNNews breakingnews latestupdate
تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ ان اکاؤنٹس کو آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز سے منسلک رقوم کی وصولی اور منتقلی کے لیے استعمال کیا گیا۔ مقدمے میں 10 آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز کے نام بھی شامل ہیں، جن میں U7777، TD777، 89F، EPIWIN، 1ee.com، 3rr.com، Z7.com، i8.fun، B9 Game اور S9 Game شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق مبینہ طور پر رقوم جاز کیش، ایزی پیسہ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے وصول کرکے مختلف کمپنیوں اور دیگر ادائیگی کے ذرائع سے منتقل کی جاتی رہیں۔
دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جاز کیش اور ایزی پیسہ کے ذریعے متعدد کارپوریٹ برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس مبینہ طور پر گمراہ کن کاروباری تفصیلات استعمال کرکے کھولے گئے۔ مقدمے کی دستاویزات کے مطابق پانچ برانچ لیس کلیکشن اکاؤنٹس میں تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار ٹرانزیکشنز کے ذریعے 8 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی رقوم موصول ہوئیں۔
اس کے علاوہ فیصل بینک اور دبئی اسلامک بینک میں موجود پانچ اکاؤنٹس کا مجموعی کریڈٹ ٹرن اوور 19 ارب 27 کروڑ روپے سے زیادہ بتایا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ فیصل آباد، ساہیوال اور راولپنڈی میں موبی لنک مائیکروفنانس بینک کے اکاؤنٹس بھی مبینہ طور پر رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوئے۔ تفتیش میں حوالہ ہنڈی اور امریکی ڈالر سے منسلک کرپٹو کرنسی USDT کے ذریعے رقوم کے مبینہ تصفیے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس سے غیر مجاز زرمبادلہ لین دین کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں پشاور، بونیر اور شاہ کس کے درمیان مالیاتی لین دین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اسکریپ، موبائل فونز، کپڑوں، زرعی اجناس اور دیگر اشیا کے کاروبار سے منسلک کمپنیوں کے اکاؤنٹس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ دستاویزات میں کمپنیوں کے کاروباری ریکارڈ، ویب سائٹس اور بینکنگ تفصیلات میں مبینہ تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں محمد ذیشان سے منسوب بیان کے مطابق مبینہ طور پر وقار رشید خان اور مائیکل نامی شخص کے ساتھ مل کر مقامی ادائیگیوں کا نظام قائم کرنے کے انتظامات کیے گئے۔
دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمد ذیشان نے 40 سے 45 کروڑ روپے، جبکہ وقار رشید خان نے مبینہ طور پر 10 سے 15 کروڑ روپے منافع میں طے شدہ حصے کے تحت وصول کیے۔ مقدمے کی دستاویزات میں 29 مشکوک مالیاتی ٹرانزیکشن رپورٹس (ایس ٹی آرز) کا بھی ذکر ہے، جن کی مجموعی مالیت 35 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 32 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشنز مبینہ طور پر محمد ذیشان سے منسوب کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے نے مقدمے میں محمد ذیشان، عمران علی، محمد عامر، علی شان، ابو سفیان، اظہر اقبال، محمد حمزہ سرور اور وقار رشید خان کو نامزد کیا ہے۔ مقدمہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی دفعات 4، 5 اور 23 جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت درج کیا گیا ہے، جن کا تعلق مبینہ طور پر زرمبادلہ قوانین کی خلاف ورزی، دھوکا دہی اور جعل سازی سے ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق جاز کیش اور ایزی پیسہ کے متعلقہ عملے سمیت دیگر افراد کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد عمران کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مقدمہ انکوائری نمبر 1698/2025 مکمل ہونے کے بعد درج کیا گیا۔ واضح رہے کہ مقدمے میں عائد کیے گئے الزامات تاحال تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں اور ان کا درست یا غلط ہونا عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔
مزیدپڑھیں: سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان کردیا















