اہم خبریں

اسلام آباد میں افغانستان سے منسلک سگریٹ ا سمگلنگ نیٹ ورک ہوتک گروپ بےنقاب

اسلام آباد(زمان مغل) اسلام آباد میں افغانستان سے منسلک مبینہ سگریٹ اسمگلنگ نیٹ ورک کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اے بی این انویسٹیگیٹو سیل نے افغان نوجوانوں پر مشتمل سمگلنگ نیٹ ورک کے بعض ارکان اور ان کے اسلام آباد میں گودام کی تصاویر حاصل کر لی ہیں۔

اے بی این انویسٹیگیٹو سیل کی تحقیق کے مطابق افغان نژاد نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں غیر ملکی اور سمگل شدہ سگریٹوں کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث ہے۔ ذرائع کے مطابق ہوتک قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ افغان نژاد نوجوان ہوتک گروپ کے نام سے سگریٹوں کی غیر قانونی ترسیل کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ مزید برآں موجودہ افغان وزیر دفاع ملا یعقوب کا تعلق بھی ہوتک قبیلے سے ہے۔

تحقیقات کے مطابق ہوتک گروپ کے ارکان کا تعلق افغانستان کے ہوتک قبیلے سے بتایا جاتا ہے، جبکہ گروپ کے بعض سرکردہ اراکین کی پاکستان کے مختلف شہروں میں نقل و حرکت اور افغانستان کے ساتھ باقاعدہ سفری روابط کی ویڈیوز بھی سامنے آئ ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہوتک گروپ اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں غیر ملکی سگریٹوں کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے نواحی سیکٹرز بی 17 ، ڈی 17 وغیرہ میں بعض گھروں کو مبینہ طور پر غیر قانونی سگریٹوں کے گوداموں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔


اے بی این انویسٹیگیٹو سیل کے مطابق ہوتک گروپ زیادہ تر ان غیر ملکی سگریٹوں کی ترسیل میں ملوث ہے جو افغانستان کے مختلف کاروباری خاندانوں کی مختلف ممالک میں قائم سگریٹ فیکٹریوں میں تیار کیے جاتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق مشہور اسمگل شدہ سگریٹ برانڈز میلانو اور مونڈ کی اسلام آباد ترسیل میں بھی ہوتک گروپ ملوث ہے۔

ذرائع کے مطابق میلانو اور مونڈ سگریٹ برانڈز گلبہار ٹوبیکو کمپنی کے تیار کردہ سگریٹ برانڈز ہیں جو گلبہار ٹوبیکو کی دبئی اور روس میں قائم سگریٹ فیکٹریوں میں تیار کیے جاتے ہیں اور پھر براستہ افغانستان پاکستان سمگل ہوتے ییں۔ گلبہار ٹوبیکو کی ملکیت افغانستان کے مشہور کاروباری خاندان حبیبی فیملی ہے۔ ذرائع کے مطابق گلبہار گروپ اسوقت افغانستان میں سیمنٹ سیکٹر، رئیل اسٹیٹ، پٹرولیم، ڈیمز اور ہائیڈرو پاور سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

اے بی این انویسٹیگیٹو سیل نے ہوتک گروپ سے وابستہ افراد کی پاکستان مخالف اور بھارت کی تعریفیں وءڈیوز بھی حاصل کر لی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے بڑے شہروں، بالخصوص اسلام آباد میں افغان نوجوانوں پر مشتمل ہوتک گروپ کے ارکان کی آزادانہ نقل و حرکت، رہائشی علاقوں میں گوداموں کا قیام اور افغانستان کے ساتھ مسلسل سفری روابط قومی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ سمیت متعلقہ اداروں کو مبینہ نیٹ ورک کے ارکان، ان کے مالی روابط، زیرِ استعمال گاڑیوں، گوداموں، سگریٹوں کی سپلائی چین اور افغانستان کے ساتھ سفری روابط کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔

اے بی این انویسٹیگیٹو سیل کی تحقیقات کے مطابق مبینہ سگریٹ اسمگلنگ نیٹ ورک کے حوالے سے مزید شواہد اور معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔
مزیدپڑھیں: فنگر پرنٹس مدھم ہونے پر پریشانی ختم، نادرا نے متبادل سہولت متعارف کرا دی

متعلقہ خبریں