اسلام آباد (اے بی این نیوز) وزٹ یا ٹورسٹ ویزا پر بیرون ملک جا کر ملازمت تلاش کرنے اور بعد میں ویزا آسانی سے ورک ویزا میں تبدیل ہونے سے متعلق اہم وضاحت سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ وزٹ یا ٹورسٹ ویزا پر کسی ملک جا کر نوکری تلاش کی جائے تو ویزا باآسانی ورک ویزا میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ تاہم قانونی اور امیگریشن ماہرین کے مطابق وزٹ ویزا عموماً سیاحت یا مختصر قیام کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور اس پر ملازمت کی اجازت نہیں ہوتی۔
امیگریشن قوانین کے تحت بیشتر ممالک وزٹ ویزا پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ بعض ممالک مخصوص اور سخت شرائط کے تحت ویزا کی حیثیت تبدیل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، تاہم یہ کوئی عمومی حق یا ضمانت نہیں ہے۔ ہر ملک میں ویزا کی اقسام، تبدیلی کے قوانین اور درخواست گزار کی اہلیت مختلف ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وزٹ ویزا پر غیر قانونی طور پر ملازمت کرنے کی صورت میں تنخواہ نہ ملنے، استحصال، قانونی ملازم کے حقوق سے محرومی، جرمانے، گرفتاری یا حراست جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
غیر قانونی ملازمت کے نتیجے میں ویزا منسوخی، ملک بدری، بلیک لسٹنگ یا دوبارہ داخلے پر پابندی بھی عائد ہوسکتی ہے، جبکہ مستقبل میں قانونی ویزا حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
متعلقہ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایجنٹوں کے اس دعوے پر اعتماد نہ کریں کہ پہلے وزٹ ویزا پر بیرون ملک چلے جائیں اور بعد میں ورک ویزا بن جائے گا۔ ویزا قوانین اور شرائط کی تصدیق ہمیشہ متعلقہ ملک کی سرکاری امیگریشن ویب سائٹ سے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو قانونی طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور سفر سے قبل تصدیق شدہ ملازمت کی پیشکش، باقاعدہ ورک ویزا، تحریری ملازمت کا معاہدہ اور حکومت پاکستان سے پروٹیکٹر رجسٹریشن سمیت تمام ضروری قانونی تقاضے مکمل کرنے چاہئیں۔
مزید پڑھیں:ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کا بڑا اعزاز، بلال احمد نے 2 گولڈ میڈلز جیت لیے















