اسلام آباد (اے بی این نیوز) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے زون 5 میں بحریہ ٹاؤن کے فیز III-E اور فیز IV پر مشتمل تقریباً 2,999 کنال اراضی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان کو منسوخ کردیا۔
سی ڈی اے کے ہاؤسنگ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق مذکورہ لے آؤٹ پلان کی منظوری 8 دسمبر 2010 کو مختلف شرائط و ضوابط کے تحت دی گئی تھی، تاہم تقریباً 15 سال گزرنے کے باوجود منصوبے سے متعلق لازمی شرائط پوری نہیں کی گئیں اور اسکیم کا این او سی بھی جاری نہیں ہوسکا۔
17 ستمبر کو جاری کیے گئے سی ڈی اے کے تازہ عوامی نوٹس کے مطابق بحریہ ٹاؤن سے متعلق بعض دیگر زیرِ التوا معاملات کی کارروائی اور منظوری کا عمل بھی روک دیا گیا ہے، جبکہ اتھارٹی نے کمپنی کو ڈیفالٹر قرار دیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے تحت پارکوں، کھیل کے میدانوں، کھلی جگہوں اور عوامی عمارتوں کے لیے مختص اراضی خالی کرکے بحال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی، تاہم کمپنی کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب اتھارٹی نے تسلی بخش قرار نہیں دیا۔
دستاویزات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی جانب سے تقریباً 3,251 کنال اراضی پر مشتمل نظرثانی شدہ اور توسیع شدہ لے آؤٹ پلان کی منظوری بھی طلب کی گئی تھی۔ سی ڈی اے نے اضافی اراضی سے متعلق تازہ ملکیتی ریکارڈ، تصدیق شدہ خسرہ پلان اور نان انکمبرنس سرٹیفکیٹ سمیت مختلف دستاویزات کی تکمیل کو ضروری قرار دیا تھا۔
سی ڈی اے نے کارنیش روڈ کے ساتھ مبینہ غیر منظور شدہ تجارتی تعمیرات کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ اتھارٹی کی دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فیڈرل آڈٹ نے 2023-24 کے دوران سی ڈی اے کی منظوری اور منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی مبینہ خلاف ورزی میں کی گئی تجارتی تعمیرات سے متعلق آڈٹ اعتراض اٹھایا تھا۔
دستاویزات کے مطابق وزارت داخلہ کے سیکرٹری کی سربراہی میں قائم ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی نے دریائے کنارے، قبرستان اور پارک یا کھلی جگہوں کے لیے مختص علاقوں میں موجود تعمیرات ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے بعد سی ڈی اے نے اپنے انفورسمنٹ ونگ کو منظور شدہ منصوبے کی خلاف ورزی میں تعمیر کیے گئے کاموں، عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔
سی ڈی اے ریکارڈ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو 2025 اور 2026 کے دوران متعدد شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔ تازہ کارروائی انہی نوٹسز اور طویل عرصے سے جاری خط و کتابت کے بعد سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب بحریہ ٹاؤن نے سی ڈی اے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان منظوری کے لیے جمع کرایا تھا، تاہم سی ڈی اے نے نئے منصوبے پر فیصلہ کرنے کے بجائے سابقہ لے آؤٹ پلان منسوخ کردیا۔
بحریہ ٹاؤن کا کہنا ہے کہ وہ سی ڈی اے کے فیصلے کو عدالتوں سمیت دستیاب قانونی فورمز پر چیلنج کرے گا۔ یوں معاملہ مزید قانونی اور ریگولیٹری کارروائی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں: پشاور کنزیومر کورٹ کا بڑا فیصلہ، برانڈڈ شاپنگ بیگ کی قیمت وصولی پر کھاڈی کو جرمانہ















