اہم خبریں

بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کا آسان طریقہ، نئی تحقیق نے اہم راز بتا دیا

ذیابیطس سے بچاؤ اور بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے کھانے کے بعد چہل قدمی ایک نہایت آسان عادت ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کھانے کے بعد مختصر جسمانی سرگرمی بلڈ گلوکوز کی سطح میں اضافے کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ذیابیطس کی سب سے عام قسم ٹائپ 2 ہے، جبکہ ٹائپ 1 اور حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس بھی اس مرض کی اہم اقسام میں شامل ہیں۔

کھانا کھانے کے بعد بلڈ شوگر بڑھنا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم بعض افراد میں اس میں زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق ایسے وقت میں مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے ہلکی جسمانی سرگرمی اختیار کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

31 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ
جرنل Complementary Therapies in Medicine میں شائع ہونے والی تحقیق میں 573 افراد سے متعلق 31 تحقیقی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ ان مطالعات میں صحت مند افراد کے ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس یا بلند بلڈ شوگر رکھنے والے افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

تحقیق میں چہل قدمی، سائیکلنگ، یوگا اور دیگر ہلکی جسمانی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد مختصر جسمانی سرگرمی کرنے سے بلڈ گلوکوز اور انسولین کے ردعمل پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

محققین کے مطابق کھانے کے بعد بیٹھنے کے بجائے ہلکی چہل قدمی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ تحقیق میں کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی سے بلڈ گلوکوز کی سطح میں اوسطاً 17.01 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ کچھ دیر کھڑے رہنے سے یہ کمی اوسطاً 9.51 فیصد رہی۔

کتنی دیر چہل قدمی مفید ہوسکتی ہے؟
تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد زیادہ دیر ورزش کرنا ضروری نہیں۔ مختصر وقفے میں اٹھ کر حرکت کرنا یا ہلکی چہل قدمی بھی بیٹھے رہنے کے مقابلے میں بہتر ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ کھانے کے بعد 2 سے 5 منٹ کی ہلکی چہل قدمی بلڈ شوگر میں اضافے کو کم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد جسم کو حرکت دینے سے مسلز گلوکوز استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی ادویات، خوراک اور ورزش کے معمول میں بڑی تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے سے کرنی چاہیے۔ صرف چہل قدمی کو ذیابیطس کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں