اہم خبریں

گلگت بلتستان میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا فیصلہ، میرٹ اور شفافیت پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت

گلگت بلتستان میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا فیصلہ، میرٹ اور شفافیت پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت

گلگت (اے بی این نیوز)صوبائی وزیرِ تعلیم گلگت بلتستان امان علی عامر نے محکمہ ہائیر، ٹیکنیکل اینڈ اسپیشل ایجوکیشن کے افسران کو میرٹ، شفافیت اور نظم و ضبط یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

نیو سول سیکریٹریٹ جوٹیال گلگت کے کانفرنس ہال میں سیکریٹری ہائیر، ٹیکنیکل اینڈ اسپیشل ایجوکیشن راجہ رشید علی نے صوبائی وزیر تعلیم کو محکمانہ بریفنگ دی، جس میں محکمے کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔

سیکریٹری راجہ رشید علی نے بریفنگ کے دوران محکمہ کا پس منظر، کارکردگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے محکمے کو درپیش مختلف مسائل اور چیلنجز کی بھی نشاندہی کی، جس پر صوبائی وزیر نے ان کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم امان علی عامر نے محکمانہ بریفنگ اور محکمے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور ان شعبوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

امان علی عامر نے کہا کہ بحیثیت وزیر تعلیم وہ محکمے کی تعمیر و ترقی اور معیار تعلیم میں بہتری کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔ ان کے مطابق تمام اہداف ایمانداری، ٹیم ورک اور مؤثر انداز میں خدمات انجام دینے سے ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ تعلیم کی بہتری کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، جبکہ میرٹ، شفافیت اور انصاف کو ہر صورت ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے بغیر محکمہ تعلیم میں مؤثر اصلاحات ممکن نہیں۔

انہوں نے افسران پر زور دیا کہ ان کی تمام تر توجہ طالب علموں پر مرکوز ہونی چاہیے کیونکہ محکمہ تعلیم کا اصل مرکز طالب علم ہے۔ کالجز، ٹیکنیکل سینٹرز اور اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کو اعلیٰ معیار کے مطابق یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

اساتذہ کے لیے اہم ہدایات
صوبائی وزیر تعلیم نے اساتذہ کی اہمیت اور تکریم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معلّم محکمہ تعلیم کا انجن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسرز، اساتذہ اور دیگر عملے کے جائز مطالبات اور حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔

انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ میرٹ، شفافیت اور انصاف کے معاملات میں کسی قسم کا ناجائز دباؤ قبول نہ کیا جائے۔

امان علی عامر نے کالجز، ٹیکنیکل سینٹرز اور اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز میں طلبہ کی حاضری یقینی بنانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے پر بھی سختی سے زور دیا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پرنسپلز اور اسٹاف کی پوسٹنگ تین سالہ روٹیشن کی بنیاد پر کی جائے، جبکہ کالجز اور دیگر تعلیمی مراکز میں نصاب مقررہ وقت کے اندر معیاری انداز میں مکمل کیا جائے۔

صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ اگر کوئی ٹیچر دفتری اوقات میں کاروبار، نجی کالج، اکیڈمی یا ٹیوشن سینٹر میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اساتذہ کو صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک اپنے ادارے میں موجود رہنے کی ہدایت کی۔

اساتذہ کی کمی پوری کرنے کا اعلان
صوبائی وزیر تعلیم نے اساتذہ اور انسانی وسائل کی کمی دور کرنے کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھانے اور کوششیں تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اساتذہ کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرامز فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

اختتام پر سیکریٹری راجہ رشید علی نے صوبائی وزیر تعلیم امان علی عامر کا محکمانہ بریفنگ کے لیے تشریف آوری اور مسائل کے حل کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیا اور وزیر تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کے عزم کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں‌:پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

متعلقہ خبریں