ہفتہ وار مہنگائی میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 9.66 فیصد تک پہنچ گئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر آنے لگے ہیں۔
وفاقی ادارۂ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.49 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے 23 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 10 اشیاء سستی ہوئیں اور 18 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 3.77 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ پیاز 14.17 فیصد اور چکن 3.35 فیصد مہنگا ہوا۔ دال چنا، لہسن اور چائے سمیت دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق انڈے 5.78 فیصد سستے ہوئے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5.15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت 4.99 فیصد اور آلو کی قیمت 1.17 فیصد کم ہوئی۔
ادارۂ شماریات کے مطابق چینی، ایل پی جی اور کیلے کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔ تاہم بنیادی ضروریات کی متعدد اشیاء مہنگی ہونے کے باعث عام صارفین پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔
ہفتہ وار مہنگائی میں تازہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی تبدیلی ہوئی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں دیگر شعبوں اور گھریلو بجٹ پر بھی نمایاں ہوسکتے ہیں۔















