اہم خبریں

سرکاری ملازم کو جنسی ہراسانی مہنگی پڑگئی، نوکری سے فارغ، 10 لاکھ روپے جرمانہ

سرکاری ملازم کو جنسی ہراسانی مہنگی پڑگئی، نوکری سے فارغ، 10 لاکھ روپے جرمانہ

اسلام آباد(رانا فرخ سعید)جنسی ہراسانی ثابت، وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جونئیر کلرک کو نوکری سے برخاست کردیا،صدا حسین شاہ پر ملازمت سے برخاستگی کیساتھ دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا،آٹھ لاکھ روپے شکایت کنندہ کو بطور تلافی ادا کیے جائیں گے جبکہ دو لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار خاتون اسسٹنٹ پرائیوٹ سیکرٹری نے گزشتہ سال نومبر میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا کہ 14 نومبر 2025 کو ادارے کا ایک جونیئر کلرک صدا حسین شاہ ان کے دفتر میں آیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی،ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کیساتھ انہیں دیوار کے ساتھ دھکیلا اور زبردستی ان کا منہ بند کیا۔میں اسی وقت اس واقعے کی اطلاع دینے ایک اعلیٰ افسر، ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) کے پاس گئی۔

وفاقی محتسب نے فیصلے میں لکھا کہ گواہان کے بیانات نے بھی واقعے کی فوری اطلاع دہی اور شکایت کنندہ کی ذہنی اذیت کی تصدیق کی ہے،شکایت کنندہ کی گواہی قابلِ اعتبار اور دیگر شواہد سے مصدقہ ہے،ملزم نمبر ایک کا طرزِ عمل ” ایکٹ 2010ء” کی دفعہ 2(h)(i) کے تحت جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے،مذکورہ قانون کی دفعہ 4(4)(ii)(d) کے تحت انہیں ملازمت سے برطرف اور دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے،ملزم نمبر دو نے ملزم نمبر ایک کو تحفظ فراہم کیا یا سہولت کاری کی یہ ثابت نہ ہو سکا اس لیے ملزم نمبر دو کو بری کرکے ان کےخلاف درخواست خارج کی جاتی ہے۔
سرکاری ملازم کو جنسی ہراسانی مہنگی پڑگئی، نوکری سے فارغ، 10 لاکھ روپے جرمانہ
مزید پڑھیں‌:کرکٹ شائقین کے لیے بری خبر، سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی ہسپتال داخل

متعلقہ خبریں